’شمالی وزیرستان،خیبر ایجنسی میں بمباری سے 92 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ PAF
Image caption جیٹ طیاروں نے تحصیل دتہ خیل میں مختلف مقامات پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کی فضائی بمباری میں مجموعی طور پر 92 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کی بمباری کے دو مختلف واقعات میں 76 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق منگل کی سہ پہر شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں فضائی کارروائی میں 12 غیر ملکیوں سمیت 53 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ ان کے چھ ٹھکانے تباہ اور بارودی مواد سے بھری سات گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

شمالی وزیرستان سے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیٹ طیاروں نے تحصیل دتہ خیل میں مختلف مقامات پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے الوڑہ منڈی، کژہ مدہ خیل، لٹکہ، اور زوئے شیدگئی کے مقامات پر کی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دتہ خیل میں ہی ایک اور کارروائی میں مزید 23 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

یہ دتہ خیل میں گذشتہ چند دن میں ہونے والی تیسری فضائی کارروائی تھی۔ اس سے قبل سکیورٹی فورسز نے ایسی ہی کارروائی میں 35 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق منگل کو سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی میں بھی بمباری کی جس میں مقامی آبادی نے 16 افراد کی ہلاکت اور 12 کے زخمی ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔

یہ کارروائی وادی تیراہ میں کوکی خیل کے علاقے وچہ ونہ ، سرہ والہ، قمبرخیل کے علاقے ترخوکس، اور مدہ خیل کے علاقے نکئی میں کی گئی ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس کارروائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب گزشتہ سال وسط جون سے شروع کیا گیا ہے جس میں حکام کے مطابق 1200 سے زیادہ افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں گذشتہ سال دسمبر میں خیبر ون کے نام سے باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بھی وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری تھیں۔

خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ اس قبائلی علاقے میں چار سالوں سے یہ کارروائیاں جاری ہیں۔

پیر کو گورنر خیبر پختونخوا مہتاب احمد خان نے کہا تھا کہ تحصیل باڑہ کے متاثرین کی اپنے علاقوں کو واپسی کا سلسلہ وسط فروری سے شروع ہوگا۔

جبکہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے متاثرین کی واپسی کے حوالے اب تک کوئی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں