وزیرستان: ڈرون حملے میں چار غیر ملکی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان کا علاقہ پاکستان میں حالیہ امریکی ڈرون حملوں کا مرکز رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں آج شام امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ حملہ شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی کے سرحدی علاقے شوال میں منڈی کے مقام پر کیا گیا ہے ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ جاسوس طیارے نے ایک مکان پر دو میزائل داغے ہیں۔ اس حملے میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ۔ ہلاک ہونے والے چاروں افراد غیر ملکی بتائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔

شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب اور امریکی جاسوس طیاروں کا نشانہ ان دنوں شوال کا علاقہ ہے ۔

گزشتہ روز ہی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے تھے جس میں فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر کے مظابق چھہتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کارروائی میں حکام کے مطابق شدت پسندوں کے چھ ٹھکانے تباہ کر دیے گئے تھے اور بارود سے بھری سات گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کچھ عرصے سے سکیورٹی فورسز کے کارروائیاں دتہ خیل اور شوال کے علاقوں میں تیز ہوئی ہیں۔

گھنے جنگلات پر مشتمل شوال انتہائی حسین بتایا جاتا ہے ۔ یہ علاقہ چلغوزے اور اخروٹ کے درختوں سے بھرا ہوا ہے ۔ انتہائی سرد علاقے میں ان دنوں میں برف باری بھی ہوئی ہے ۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے سال دو ہزار سے پہلے اس علاقے میں لوگوں کی آمدو رفت انتہائی کم تھی۔ بیشتر لوگ اونٹوں اور گھوڑوں پر سفر کرتے تھے۔ اس علاقے میں فوج کے آنے کے بعد سڑک بنائی گئی جس سے آمدو رفت شروع ہو گئی تھی۔ لوگوں کے آنے سے اس علاقے میں جنگلات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میرانشاہ ، میر علی اور دتہ خیل کے علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں شدت پسند اس علاقے میں پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں