’این اے 122 کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان عام انتخابات کے بعد سے مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے والے مقامی کمیشن کے فیصلے کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کر لیا ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کی درخواست پر مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے جج غلام حسین اعوان کو 31 جنوری کو طلب کر لیا ہے۔

’انتخابی بے ضابطگیاں ہوئیں مگر دھاندلی نہیں ہوئی‘

عمران خان نے اپنے وکیل انیس ہاشمی کے ذریعے دائر درخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ لوکل کمیشن نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران کئی اہم نکات کو نظر انداز کردیا ہے۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران موجود تحریک انصاف کے نمائندوں کی نشاندہی کے باوجود بے ضابطگیوں کو اپنی رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لوکل کمیشن کی حیثیت متنازع ہوگئی ہے اس لیے ریکارڈ کی ازسرنو جانچ پڑتال کی جائے۔

درخواست میں کمیشن کے مقامی میڈیا کو دیے جانے والے بیان پر ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کر رکھی ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ حلقہ 122 میں دھاندلی ہوئی ہے۔

عمران خان کے وکیل نے درخواست میں یہ اعتراض اٹھایا کہ لوکل کمیشن غلام حسین اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کے مخالف کے حق میں بیان دیا ہے اور اس طرح وہ ایک فریق بن گئے ہیں۔

گذشتہ سماعت پر لوکل کمیشن کے غلام حسین اعوان نے الیکشن ٹربیونل میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور کارروائی مکمل ہونے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں کوئی جعلی ووٹ نہیں نکلا البتہ اِنتخابی بےضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

اسی بارے میں