نومنتخب بلدیاتی نمائندوں کے لیے چیلنج

Image caption حبیب الرحمان کے مطابق ان کے علاقے میں پہلے چار ٹیوب ویل تھے اب صرف ایک فعال ہے جہاں لوگوں کا رش رہتا ہے کبھی کبھار تو اس کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا ہے

خروٹ آباد کے علاقے میں واقع ایک گلی میں موجود ٹنکی سے آدھے انچ کے پائپ لائن سے پانی کی آمد جاری ہے جبکہ آس پاس سات سے پندرہ سال تک کی عمر کے بچے اپنی باری کے منتظر ہیں۔ یہ بچے دس سے بیس لیٹر کے جیری کین میں پانی بھرتے ہیں اور بعد میں ہاتھ والی ریڑھی میں ڈال کر گھر روانہ ہوجاتے ہیں۔

ان بچوں میں آٹھویں جماعت کا طالب علم حبیب الرحمان بھی شامل تھا۔ سردی ہو یا گرمی، گھر میں پانی لانے کی ذمہ داری حبیب الرحمان کی ہے۔ اسکول سے واپسی کے بعد وہ دن میں دو بار یہ چکر لگاتا ہے۔

بقول حبیب الرحمان کے مکان کے نلکے میں گزشتہ تین سالوں سے پانی نہیں آرہا ہے جبکہ حکام کہتے ہیں کہ ٹیوب ویل کی مرمت کر رہے ہیں، جس کے لیے پیسے بھی لے چکے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔

حبیب الرحمان کے مطابق ان کے علاقے میں پہلے چار ٹیوب ویل تھے اب صرف ایک فعال ہے جہاں لوگوں کا رش رہتا ہے کبھی کبھار تو اس کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا ہے۔

برطانوی فوجی چھاؤنی سے صوبائی دارالحکومت کی شکل اختیار کرنے والی وادی کوئٹہ کے لوگوں کا دارومدار زیر زمین پانی پر ہے، جس میں ہر سال کمی ہو رہی ہے جبکہ آْبادی میں مسلسل اضافہ۔

یہاں پینے کے پانی کا مسئلہ تو ہے ہی، لیکن نکاسی آب کا مسئلہ بھی اتنا ہی سنگین ہے۔ شہر کی مرکزی سڑک جناح روڈ ہو یا پوش علاقہ سیٹلائیٹ ٹاؤن اکثر گلیوں میں کچرے کے ڈھیر، ابلتے گٹر اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں نظر آتی ہیں، جو نو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے لیے چیلنج ہیں۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ بھی کہتے ہیں کہ انہیں نو منتخب کونسلروں سے کئی امیدیں ہیں، جو وہ نہیں کرسکے کونسلر کرسکیں گے۔ انھوں نے کونسلروں کو مشورہ دیا کہ کوئٹہ کی صفائی، پانی اور ٹریفک کے مسائل کو اپنا سمجھیں حکومت ان کے ساتھ ہے جو اختیارات انھوں نے اسلام آباد سے لیے ہیں وہ انہیں مزید نیچے لے جاکر کونسلروں کو دینا چاہتے ہیں۔

Image caption ’ہماری اولیت ٹریفک کے نظام کو ٹھیک کرنا، تجاویزات ہٹانا ہے، پانی کی فراہمی، سالڈ اور نہری ویسٹ کو ٹھکانے لگانا ہے جبکہ سب سے بڑا مسئلہ تو امن امان ہے جو براہ راست میئر کے ماتحت نہیں آتا ہے لیکن اس کا تعلق ضرور بنتا ہے۔‘

کوئٹہ کے نو منتخب میئر اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے پارٹی کے کہنے پر پریکٹس چھوڑ دی اب وہ بلدیاتی امور سنبھالیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئٹہ کی نبض پر بھی ان کا ہاتھ ہے۔

’ہماری اولیت ٹریفک کے نظام کو ٹھیک کرنا، تجاوزات ہٹانا ہے، پانی کی فراہمی، سالڈ اور نہری ویسٹ کو ٹھکانے لگانا ہے جبکہ سب سے بڑا مسئلہ تو امن امان ہے جو براہ راست میئر کے ماتحت نہیں آتا ہے لیکن اس کا تعلق ضرور بنتا ہے۔‘

پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن پر مشتمل حکمران اتحاد نے بلدیاتی اداروں میں اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جس کے بعد یہ قومی امکان ہے کہ یہاں ٹکراؤ نہیں ہوگا جس طرح دیگر صوبوں میں نظر آتا ہے۔

پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی خود احتسابی کا بھی مشورہ دیتے ہیں بقول ان کے کونسلر اور وزرا یہ بات ذہن میں رکھیں کہ دو افراد کے درمیان جو بھی لین دین ہوتا ہے یہ بات کسی سے نہیں چھپتی، اس غلط فہمی میں کوئی نہ رہے کہ اس نے کوئی فائل اس طرح کردی یا دبئی میں مجھے اسے اتنے ملے کیونکہ یہ بات چھپنے والی نہیں۔

Image caption بنیادی حکمرانی کے اس نظام سے پاکستان کے پسماندہ صوبے بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی ترقی ممکن ہے

چمن، پشین، تربت اور خصدار میونسپل کارپوریشن، 53 شہری میونسپل کمیٹیوں اور 32 ضلعی کونسل کے لیے بھی چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کیا گیا ہے۔

بنیادی حکمرانی کے اس نظام سے پاکستان کے پسماندہ صوبے بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی ترقی ممکن ہے۔ تجزیہ نگار اور صحافی شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں یہ ممکن ہے۔

’اگر ضلعی اور تحصیل میں حقیقی طور پر اختیارات کی منتقلی کی جائے، اضلاع کو کہا جائے کہ یہ فنڈس لیں اپنی اولیت کے مطابق اس کو خرچ کریں ، یہ دیکھیں کہ آپ کے لوگ کیا چاہتے ہیں روڈ، بجلی، صحت مرکز یا اسکول۔ اسی بنیاد پر اسکیمیں بنائیں۔‘

شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں بلوچستان میں صنعتیں نہیں اس لیے اکثر ضلعوں کی اپنی آمدنی نہیں صوبائی حکومت کو ان کی مدد کرنی ہوگی۔

اسی بارے میں