’پاکستان کی فضائی حدود میں 24 ہزار فٹ سے نیچے نہ آئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption پاکستانی فضائی حدود کو محفوظ نہیں سمجھا جا رہا

یورپی یونین میں پروازوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ممکنہ شدت پسند حملوں کے خدشے کی وجہ سے طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود میں 24 ہزار فٹ سے کم بلندی پر نہ اڑنے کے لیے کہا ہے۔

تاہم پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے ایوی ایشن شجاعت عظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس سلسلے میں آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی وجہ بتائی گئی ہے۔

یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی یعنی ایسا نے اعلان کیا ہے کہ فرانسیسی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنی ائر لائنز کو پاکستان میں خصوصاً لاہور اور کراچی کی فضائی حدود میں 24 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے اڑنے سے منع کیا ہے۔

’ایسا‘ نے یہ تنبیہ 22 جنوری کو ایک اطلاع نامے کے ذریعے جاری کی ہے۔

یورپی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ تمام بین الاقوامی پروازوں کو اس بارے میں توجہ دلائی جا رہی ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کو ممکنہ شدت پسند حملوں کے باعث انتہائی احتیاط کرنی چاہیے۔

تاہم وزیرِ اعظم کے مشیر برائے ایوی ایشن شجاعت عظیم نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نہ فرانس اور نہ ہی ایسا نے سکیورٹی کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی ہیں۔

’پاکستان میں تمام قومی اور بین الاقوامی پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں اور کسی قسم کے شدت پسند حملے کی تازہ اطلاع نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہوائی جہازوں کا تحفظ اہمیت کا حامل ہے اور اگر کوئی ایسی بات ہوتی، تو میڈیا کوضرور بتائی جاتی۔

’ایسا ہو سکتا ہے کہ فرانس یا یورپی ایجنسی کو کسی ڈرون طیارے کی پرواز کے بارے میں اطلاع ہو، کیونکہ 24 ہزار فٹ سے نیچے وہی اڑتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ برس کراچی کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے کچھ گھنٹوں کے لیے پروازیں روکی ضرور تھیں تھیں ’تاہم امارات ایئرلائن نے اگلے روز ہی پروازیں بحال کر دی تھیں۔‘

شجاعت عظیم کو یقین ہے کہ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے تنبیہ نہیں کی بلکہ بین الاقوامی پروازوں کو محض محتاط رہنے کو کہا ہے۔

سول ایوی ایشن کے معاملات کے ماہر جواد نظیر کا کہنا ہے کہ ایسی تنبیہ دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

’ایوی ایشن کے جتنے بھی بین الاقوامی ادارے ہیں وہ سب ہی بہت با اثر ہیں کیونکہ ان کی تعداد کم ہے اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اور اس سے پاکستانی ایوی ایشن کو نقصان ضرور ہو سکتا ہے، فائدہ نہیں۔‘

فرانس کی کوئی بھی ایئر لائن پاکستان میں براہِ راست نہیں آتی اس لیے موجودہ بین الاقوامی پروازوں کو فرق نہیں پڑے گا۔

’جتنی بھی فرانسیسی ایئرلائنز پاکستان کےاوپر سے گزرتی ہیں، وہ پہلے ہی 36 ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر اڑتی ہیں۔ ان پروازوں کے لیے قریب ترین ہوائی اڈے دہلی میں ہیں یا ممبئی میں۔‘

جواد نظیر نے مزید بتایا کہ ملایشیئن ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 17 پر یوکرین میں فائرنگ کر کے گرائے جانے کے واقعے کے بعد بھی ایسی تنبیہ جاری کی گئی تھی۔

’جب یوکرین کی فضائی حدود میں ایم ایچ 17 کو گرایا گیا، تو عراق سے گزرنے والی پروازوں کو ایران کی طرف موڑ دیا گیا تھا کیونکہ وہ خطرناک علاقہ تھا۔ اسی طرح افغانستان کے درالحکومت کابل کے علاقے کو بھی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔لیکن میرا نہیں خیال کہ پاکستان میں ایسی صورتِ حال ہے۔‘

اسی بارے میں