پنجاب کے گورنر چوہدری سرور مستعفی ہو گئے

Image caption چوہدری سرور کو برطانوی ہاؤس آف کامنز کی تاریخ کا پہلا مسلمان رکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

گورنر ہاؤس کے ترجمان آغا محمد شورش نے استعفے کی تصدیق کرنے ہوئے بتایا کہ چوہدری محمد سرور نے بدھ کی شب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مستعفی ہونے کے بعد جمعرات کی دوپہر لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں چوہدری سرور نے کہا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے استعفیٰ دیا ہے اور انھیں ایوان صدر یا وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے مستعفی ہونے کے لیے نہیں کہا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم ہاؤس یا ایوان صدر سے میرے ساتھ یا میرے عملے کا بالکل کوئی رابطہ نہیں ہوا نہ میرے کسی بیان پر مجھ سے وضاحت طلب کی گئی اور نہ ہی کسی نے مجھے استعفیٰ دینے کے لیے کہا۔‘

انھوں نے یہ چیلنج بھی کیا کہ اگر ان کی بات غلط ثابت ہو جائے تو جو بھی سزا ان کے لیے تجویز کی جائے وہ بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔

ملک میں امن و امان اور انصاف کی صورت حال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سابق گورنر نے کہا کہ پاکستان میں ظلم اور ناانصافی میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور گورنر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے معافی چاہتے ہیں۔

چوہدری سرور کو جولائی 2013 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نےگورنر پنجاب تعینات کیا تھا۔

اس تعیناتی سے قبل چوہدری سرور کا مسلم لیگ ن سے براہ راست تو تعلق نہیں رہا اس لیے ان کی تعیناتی کو نوازشریف کی جانب سے ذاتی تعیناتی کے طور پر لیا گیا تھا۔

نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق چوہدری محمد سرور کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ تعلقات گذشتہ کچھ عرصے سے اچھے نہیں جا رہے تھے۔

حال ہی میں وہ حکومتی پالیسوں پر متعدد بار تنقید کرتے بھی دکھائی دیے تھے جس کے بعد ان کے عہدے سے علیحدگی کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔

پریس کانفرنس میں سابق گورنر نے مختلف امور پر وفاقی حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ اختلافات پر تو بات نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں ایک ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جن میں دھوبی، کسان اور دیگر مزدور طبقے کے بیٹے کو بھی اتنا ہی حق ملے جتنا بڑے لوگوں کو حاصل ہے۔

چوہدری محمد سرور نے سیاسی ورکروں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ اپنی طاقت پہچانیں اور جاگیں۔

’اگر پارٹی کے اندر پارٹی کی کمزوریاں بتائیں گے تو آپ اس پارٹی کی خدمت کر رہے ہیں، اگر آپ اپنے اپنے حقائق اپنے لیڈروں کو بتائیں تو وہ ملک کے لیے بھی بہتر ہے اور حکومت کے لیے بھی بہتر ہے۔‘

نئے گورنر کی تعیناتی تک پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا اقبال قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالیں گے۔

چوہدری محمد سرور مسلم فرینڈ آف لیبر کے بانی چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران چوہدری سرور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے۔

34 برس پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے برطانیہ منتقل ہونے والے چوہدری سرور کو ہاؤس آف کامنز کی تاریخ میں پہلا مسلمان رکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے تاہم اب وہ اپنی برطانوی شہریت ترک کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں