ایم کیو ایم کی اپیل پر ہڑتال اور یومِ سوگ، نظامِ زندگی متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی کے تمام اہم بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے

متحدہ قومی موومنٹ کی اپیل پر جمعرات کو کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں ہڑتال اور یومِ سوگ کی وجہ سے نظامِ زندگی متاثر ہوا ہے۔

ایم کیو ایم نے اس ہڑتال اور یومِ سوگ کی کال بدھ کو موچکو کے علاقے سے اپنے ایک کارکن سہیل احمد کی لاش ملنے کے بعد دی تھی۔

جماعت کی رابطہ کمیٹی کے انچارج قمر منصور کا کہنا ہے کہ سہیل سیکٹر یونٹ 64 کا انچارج تھا اور اسے 15 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

کراچی کے تاجروں کی مرکزی تنظیم، نجی سکولوں کی ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹ اتحاد نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جمعرات کو شہر کے تمام بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے۔

اس کے علاوہ شہر کے تقریباً تمام سی این جی اسٹیشن اور پیٹرول پمپ بند کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ذاتی سواری رکھنے والے افراد کو بھی سفر میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے چار لاشیں رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں

شہر کے تمام نجی اور تعلیمی ادارے بند ہیں اور صوبائی وزیرِ تعلیم نثار کھوڑو کی جانب سے سرکاری تعلیمی ادارے کھولنے کے اعلان کے باوجود ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے جامعہ کراچی نے اپنے پرچے بھی ملتوی کر دیے ہیں۔

حیدرآباد سے صحافی علی حسن کے مطابق اندرونِ سندھ میں یومِ سوگ کے موقع پر ہڑتال کا زیادہ اثر حیدرآباد، میرپورخاص اور سکھر میں دیکھا گیا ہے جہاں دکانیں، پیٹرول پمپ اور تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ ٹریفک بھی معمول سے کہیں کم ہے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان نے ایم کیو ایم کے کارکن سہیل احمد کے قتل کا نوٹس لے لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ڈی جی رینجرز اور سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے ۔

انہوں نے سہیل احمد کی ہلاکت پر ایم کیوایم سے تعزیت بھی کی اور کہا کہ قانون کی حدود سے باہر کوئی بھی اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

خیال رہے کہ کراچی میں سماج دشمن عناصر کے خلاف پولیس اور رینجرز کی جانب سے آپریشن کے آغاز کے بعد سے ایم کیو ایم اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔

اس کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایک عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو اس کے کارکنوں کی ہلاکتوں کے واقعات کی تحقیقات کرے۔

اسی بارے میں