وکلا کا فوجی عدالتوں کی تشکیل کےخلاف احتجاج کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان بار کونسل کی کال پر ملک بھر میں وکلا نے 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف یوم سیاہ منایا (فائل فوٹو)

پاکستانی وکلا کی سب سے اعلیٰ تنظیم پاکستان بار کونسل کے زیر انتظام وکلا کنونشن میں فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت کی مذمت اور 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو بنیادی حقوق کے خلاف اور آئین سے متصادم قرار دینے کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

قرارداد لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر شفقت چوہان نے پیش کی جس پر وکلا نے ہاتھ اٹھا کر ووٹ دیا۔

فوجی عدالتیں، سوالات اور دائرہ کار

کنونشن نے عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مقدمات کے غیر ضروری التوا اور غیر ضروری ہڑتالوں سے گریز کی حمایت کی اور میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے والے قوانین کی مخالفت کرنے کا عزم دہرایا۔

کنونشن نے ہر جمعرات کو فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان بھی کیا۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بار کے صدر شفقت چوہان کا کہنا تھا: ’کہا گیا ہے کہ جج کمزور ہیں، فیصلے نہیں کرتے۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ عدالتوں میں فوج بٹھا دی جائے؟ ویسے تو پٹرول بھی نہیں مل رہا، بجلی اور گیس بھی موجود نہیں تو کیا ان اداروں میں بھی فوج کو بلا لیا جائے؟ اگر کوئی جج کام نہیں کر رہا تو اس نکال دیں لیکن سارے نظام کو تو نہیں نکالا جا سکتا۔ لیکن اصل میں تو یہاں نظام لپیٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔‘

کنونشن میں ملک بھر سے وکلا کے وفود شریک ہوئے جنھوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا۔

وکیل رہنما عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا: ’اگر یہ کہا جائے کہ عدالتوں میں دہشت گردی کے خلاف ثبوت نہیں آتے تو کیا اس فوج سے جس سے بچہ بچہ ڈرتا ہے وہاں کون ثبوت لے کر جائے گا؟ ہمیں یہ معلوم ہے کہ موجودہ قوانین کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں بتایا جائے کہ جنگلہ بس اور ٹینکوں پر تو اتنے پیسے خرچ کیے گئے مگر عدالتی اصلاحات کے لیے کیا کیا گیا؟‘

Image caption ’جنگلہ بسوں اور ٹینکوں پر تو اتنے پیسے خرچے گئے مگر عدالتی اصلاحات کے لیے کیا کیا گیا؟‘

وکیل رہنما حامد خان کا کہنا تھا کہ پشاور حملے میں جن اداروں کی کوتاہی تھی ان پر تو پردہ ڈال دیا گیا لیکن عدالتوں کو دہشت گردی کا مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔

’ہماری سیاسی جماعتیں فوج کے سامنے بہت کمزور ثابت ہوئیں۔ جو فوج نے کہا وہ سیاست دانوں نے کر دیا۔ اس کے لیے آئین تک میں تبدیلی کر دی۔ جو کہ ہمارے آئینی نظام کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ سویلین حکومت فوج کو اتنی گنجائش اور جگہ کیوں دے رہی ہے، اور پارلیمنٹ اتنی کمزور کیوں ہے کہ فوج کے ایک حکم کے سامنے بے بس ہوجاتی ہے؟‘

پاکستان بار کونسل کی کال پر ملک بھر میں وکلا نے 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف یوم سیاہ بھی منایا۔ مختلف شہروں میں وکلا بازوؤں پر احتجاجی پیٹاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے اور بار رومز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔

پیر کو ہائی کورٹ بار اور لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن اپنے ایک مشرکہ اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر اشتیاق اے خان نے واضح کیا تھا کہ فوجی عدالتیں ایک مساوی عدالتی نظام ہے جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ عدالتیں قائم کرنا ملک میں مارشل لا لگانے کے مترادف ہے۔

اسی اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار ایسوسی ایشن نے فوجی عدالتوں کے قیام کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیا تھا۔ جس کے بعد اس معاملہ پر آل پاکستان وکلا کنونشن کی کال دی گئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی دائر کر چکی ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی ابتدائی سماعت کی اور وفاق سمیت چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 فروری تک جواب طلب کر لیا ہے۔

اسی بارے میں