کراچی: ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ کی شکایت پر کراچی میں ماروائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی منظوری دے دی ہے۔

گورنر ہاؤس کراچی میں جمعے کو امن و امان کی صورتحال کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو مشورہ دیا کہ وہ انتظامی اور سیاسی منصب سے مستفید ہو کر سیاسی ہم آہنگی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومت کو ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے 30 تین کے اندر عدالتی کمیشن بنانے کا حکم دیا۔

نواز شریف نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو بھی ہدایت کی کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے ہلاک ہونے والے کارکنوں کے ورثا سے ملاقات کریں اور اس بارے میں انھیں اور صوبائی حکومت کو رپورٹ پیش کریں۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں میں سماعت کے لیے دہشت گردی کے مقدمات کی تفصیلات دس روز میں وفاقی حکومت کو پیش کر دیں گے۔

وزیر اعظم نے کراچی کے دورے کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے ہلاک کارکنوں سہیل احمد اور فراز کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی، اس موقعے پر جماعت کی رابطہ کمیٹی کے رہنما بھی موجود تھے۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے وزیر اعظم کو لاپتہ کارکنوں کی فہرست بھی پیش کی، جن کے بارے میں ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ انہیں سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ پکڑ کر لے گئے تھے۔

گذشتہ شب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے اعلان کیا تھا اب جس روز ان کے کارکن کی لاش ملی تو دوسرے روز پہیہ جام کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایم کیو ایم کی اپیل پر ہڑتال کی وجہ سے کراچی کے تمام اہم بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے

وزیر اعظم کی کراچی آمد سے قبل کارکنوں سے طویل خطاب میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ محض الزام کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے کسی کارکن کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ماورائے عدالت قتل کیے جا رہے ہیں۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ’ہلاک کارکنوں کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا تو کہا گیا کہ حملہ کیا جا رہا ہے۔۔۔ کارکنوں کو ماروائے عدالت مارا جارہا ہے گرفتار کر کے لاپتہ کیا جا رہا ہے اور عدالتوں میں پٹیشنز لگائی جاتی ہیں لیکن شنوائی نہیں ہوتی۔‘

خیال رہے کہ کراچی میں سماج دشمن عناصر کے خلاف پولیس اور رینجرز کی جانب سے آپریشن کے آغاز کے بعد سے ایم کیو ایم اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔

ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ اس کے 30 سے زائد کارکن لاپتہ ہیں جن کی گمشدگی کے لیے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

تاہم کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے حال ہی میں بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں دعویٰ کیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ میں کئی گروپس ہیں جو ہو سکتا ہے کہ کارکنوں کی جبری گمشدگی میں ملوث ہوں۔

کراچی میں حالیہ سیاسی کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب منگھو پیر سے ایم کیو ایم کے یونٹ انچارج سہیل احمد کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔

ایم کیو ایم نے اس کے خلاف جمعرات کو کراچی اور سندھ کے متعدد شہروں میں یوم سوگ بھی منایا تھا۔

اسی بارے میں