’شدت پسندی کی وجہ لیڈر شپ کی ناکامی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’سندھ میں مذہبی بنیادوں پر شدت پسندی کم لیکن کچھ علاقوں میں تقریباً 70 کی دہائی سے موجود ہے‘

پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے متعلق کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شدت پسندی میں اضافے کی بنیادی وجہ مقامی لیڈر شپ کی ناکامی ہے۔

بالخصوص پیپلز پارٹی پر اپنا اعتماد کھو دینے کے بعد عوام کے پاس قوم پرستی اور مذہبی شدت پسندی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔

صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہما یوسف اور سید شعیب حسن کی شائع کردہ ایک مشترکہ تحقیقی رپورٹ میں انہی تمام عوامل کا جائزہ لیا گیا کہ سندھ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کس وجہ سے اور کن بنیادوں پر بڑھ رہی ہے اور وہ کون سے علاقے ہیں جہاں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔

سید شعیب حسن نے بتایا کہ اس تحقیقی کے لیے تمام اہم سیاسی جماعتوں سکیورٹی فورسز کے لوگوں سے، پولیس، مدرسوں کے اساتذہ، مفتی، جاگیرداروں، وڈیروں اور نوجوانوں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگوں سے بات کر کے ان کے ساتھ وقت گزار کر یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔

شعیب حسن نے بتایا کہ سندھ میں مذہبی بنیادوں پر شدت پسندی کم لیکن کچھ علاقوں میں تقریباً 70 کی دہائی سے موجود ہے۔ ’جیسے سکھر اور خیرپور میں ایسے عناصر ہیں جو شیعہ سنی مسائل کو وجہ بنا کر اپنی قوت میں اضافہ کرتے رہے۔‘

’80 کی دہائی میں سپاہ صحابہ نے بھی یہاں اپنے قدم جمائے۔ اس میں زیادہ اضافہ دو ہزار سات اور آٹھ میں ہوا جب یہاں سکیورٹی فورسز، مقامی سیاسی رہنماؤں، اقلیتی فرقے کے افراد پر ایک تواتر سے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بالخصوص جب پاکستان آرمی نے فاٹا کے اندر آپریشن شروع کیے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے جبکہ سکھر میں سپاہ صحابہ کا کافی بڑا نیٹ ورک ہے جو یہاں کافی عرصے سے موجود ہے۔ ’اس تنظیم نے تھوڑا بہت فلاح و بہبود کا کام کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption معاشی طور پر ابتر حالات، بیروزگاری، کاروباری مواقع نہ ملنا اور اس کے علاوہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان جیسے پانی بجلی اور سڑکوں کے حالات یہ سب مسائل مل کر شدت پسندی کی راہ ہموار کر رہے ہیں

معاشی طور پر ابتر حالات، بیروزگاری، کاروباری مواقع نہ ملنا اور اس کے علاوہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان جیسے پانی بجلی اور سڑکوں کے حالات یہ سب مسائل مل کر شدت پسندی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

’اس میں سب سے بڑی وجہ لیڈرشپ کی غلطیاں کوتاہیاں اور کمیاں اور خامیاں ہیں۔ جس کے بعد لوگوں کے پاس سوائے مذہبی شدت پسندی یا قوم پرستی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا۔‘

اسی بارے میں