کراچی میں ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہڑتال

Image caption پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق دو ہزار دس سے آج تک57 ڈاکٹروں کو ہلاک کیا گیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیر کے روز ڈاکٹروں نے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خلاف ہڑتال کی۔

ہلاکتوں کے خلاف شہر کے جناح، سول اور عباسی ہسپتال سمیت شہر کے تمام سرکاری اور اکثر نجی ہپستالوں میں ڈاکٹروں نے ہڑتال کی۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق شہر میں 30 سرکاری اور 11 سو سے زائد نجی ہسپتال ہیں۔

ڈاکٹر تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ دفاع کے کے لیے اسلحے کے لائسنس اور ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے دفتر کی چار دیواری کے اندر ڈاکٹروں نے پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کیا۔

چار دیواری کے اندر ایک کیمپ بھی قائم تھا جس میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں کے نام درج تھے۔ ان ناموں میں ایک نام ڈاکٹر عرفان الدین قریشی کا بھی تھا، جن کی بیوہ طاہرہ عرفان اپنے چار بچوں کے ساتھ اس احتجاج میں شریک تھیں۔

ڈاکٹر عرفان کو اکتوبر 2013 میں اورنگی کے علاقے میں ان کی نجی کلینک میں قتل کیا گیا تھا۔ طاہرہ عرفان کہتی ہیں کہ حملہ آور کون تھے ابھی تک پولیس تعین نہیں کر سکی ہے۔

Image caption ڈاکٹر رہنماؤں نے عملی اقدامات لینے تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا

’وہ کلینک پر موجود تھے اور مریض کو دیکھ رہے تھے کہ ایک دم سے دروازہ کھلا اور ایک شخص داخل ہوا، اس نے فائر کیا جو ان کے بازو پر لگا، انہوں نے منتیں کیں کہ ان کے چھوٹے بچے ہیں نہ مارو، اسی دوران دو اور لوگ داخل ہوئے اور فائرنگ کر کے انہیں چھلنی کر دیا۔ وہ اندر ہی موجود رہے کسی نے بھی انہیں ہپستال پہنچانے کی ہمت نہیں کی۔‘

طاہرہ عرفان کے مطابق ان کے شوہر کو بھتے کی پرچیاں ملتی تھیں وہ پیسے دے بھی دیا کرتے تھے لیکن پولیس کو انہوں نے کبھی نہیں بتایا تھا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق دو ہزار دس سے آج تک57 ڈاکٹروں کو ہلاک کیا گیا ہے، جن میں رواں سال کے پہلے مہینے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد تین ہے۔

ڈاکٹر نثار شاھ سینیئر میڈیکل لیگل افسر ہیں جو سول ہپستال میں تعینات ہیں۔

Image caption طاہرہ عرفان کے مطابق ان کے شوہر کو بھتے کی پرچیاں ملتی تھی

ایم ایل او کو پولیس کے قریب سمجھا جاتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پہلے ڈاکٹروں کی ہلاکتیں فرقہ وارانہ شدت پسندی کی وجہ سے ہوتی تھیں جس میں اہل تشیع زیادہ نشانہ بنتے تھے لیکن اب بھتہ خوری کا بھی عنصر شامل ہوگیا ہے اور اس وقت بھی چار سو سے زائد ڈاکٹروں کو پرچیاں مل چکی ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مرزا علی اظہر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر معاشرے کی کریم سمجھا جاتا ہے جس کا عام لوگوں کے ساتھ رابطہ ہوتا رہے، اسی طرح ڈاکٹر کی ایک نیوز ویلیو ہے اگر کسی عام آدمی کو نشانہ بنایا جائے تو ایک چھوٹی سے خبر بنتی ہے اور دوسرے دن لوگ بھول جاتے ہیں لیکن جب ڈاکٹر کو مارا جاتا ہے تو وہ اکیلا نہیں ہوتا اس کے ساتھ پوری کمیونٹی دہشت زدہ ہوتی ہے اگر وہ ایک ادارے کا سربراہ ہے تو پورے کا پورے ادارا تباہ ہو جاتا ہے۔

ان ڈاکٹروں کو یہ بھی شکایت ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

جناح ہپستال ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جاوید جمالی کے مطابق حکومت پولیس اہلکاروں کا تو معاوضہ ادا کرتی ہے اور بچوں کو تعلیم بھی دی جاتی ہے لیکن ڈاکٹروں کی خدمات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

زندگی بچانے والے ہاتھ اب حفاظت کے لیے زندگی چھیننے والے اسلحے کے لائسنس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے کراچی میں تاجروں اور پشاور میں اساتذہ کو حکومت لائسنس دے چکی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مرزا علی اظہر کا کہنا ہے کہ اسلحے کے خوف کی اہمیت ہے کیونکہ جب ادارے ناکام ہو جائیں تو کیا ڈاکٹر اسی طرح مرتے رہیں ، وہ اس لیے اسلحے کے لائسنس کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ حملہ آور کو یہ خوف ہو کہ ڈاکٹر کے پاس بھی اسلحے ہو سکتا ہے وہ بھی جوابی حملے کر سکتا ہے اسی خوف کی اہمیت ہے۔

Image caption شہر کے تمام سرکاری اور اکثر نجی ہپستالوں میں ڈاکٹروں نے ہڑتال کی

ڈاکٹروں کے قتل میں ملوث ملزمان کی نشاندھی نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات میں پیش رفت بھی نہیں ہوتی۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ادریس ایدھی کہتے ہیں کہ مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں، یہاں جج صاحبان ڈر رہے ہیں کہ مقدمات کیسے چلائے جائیں۔

محکمۂ صحت کے ایک جوائنٹ سیکریٹری نے پی ایم اے کی قیادت سے ملاقات کر کے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی اور یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا اور انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے گی لیکن ڈاکٹر رہنماؤں نے عملی اقدامات لینے تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں