’آرمی پبلک سکول پر حملے کے ذمہ داروں کی نشاندہی کریں‘

Image caption آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ملک بھر میں سکول بند کر دیے گئے تھے

پشاور کے آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین نے حملے کی تحقیقات کے لیے’شہدا فورم‘ قائم کیا ہے۔

اس فورم میں موجود والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ سکول پر حملے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کر کے انھیں سزا دی جائے۔

طالبان کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 10ویں جماعت کے طالب علم اسفند خان بھی تھے۔

ان کے والدین نے فورم کے ذریعے سوال اٹھایا کہ حملے کی تحقیقات کہاں تک پہنچی؟ انھیں اس بارے میں کچھ کیوں نہیں بتایا جا رہا۔

اسفند خان کے والد اجون ایڈووکیٹ کا کہنا کہ حملہ آوروں کو یہاں سکول تک پہنچانے کے لیے جن لوگوں نے معاونت کی ہے ان کی نشاندہی کی جائے۔

اسفند خان کی والدہ مسز شاہانہ اجون نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین کو سکون نہیں آ رہا جب تک اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات نہیں ہوتیں تب تک وہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ’وہ اپنے بچوں کی فیس کے ساتھ سکول کی سکیورٹی فیس بھی دیتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری آرمی کی تھی اور انھوں نے کیا سکیورٹی کی تھی وہ اس بارے میں والدین کو بتائیں اس کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذمہ دار ہیں۔‘

مسز شاہانہ اجون کے مطابق اس واقعے کے بعد دھرنے ختم ہو گئے یوٹرن لیے گئے، مسلم لیگ کی کرسیاں بچ گئیں اور باقی سب اپنی جگہ پر موجود ہیں اور نقصان صرف والدین اور بچوں کا ہوا ہے۔

شہدا فورم میں شامل والدین بدھ کو پھر ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

اسی بارے میں