سابق چیف جسٹس نسیم شاہ انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court
Image caption 1993 میں انھوں نے بحیثیت چیف جسٹ آف پاکستان نواز شریف کی حکومت کو بحال کیا

سابق چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس نسیم حسن شاہ وفات پا گئے ہیں ان کی عمر 86 برس تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور عدلیہ کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق سابق چیف جسٹس کی نماز جنازہ بدھ کی صبح نو بجے پنجاب کے شہر لاہور میں ادا کی جائے گی۔

جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ نے18 اپریل 1993 سے 14 اپریل 1994 تک بطور چیف جسٹس آف پاکستان اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ انھیں برصغیر کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں طور جج کام کرنے کا موقع ملا۔ 39 سال کی عمر میں وہ ہائی کورٹ کے جج بنے جبکہ 65 برس کی عمر میں سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ ہوئے۔

وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا حصہ تھے۔

جسٹس نسیم حسن شاہ کا نام سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے کل سات میں سے ان چار ممبران میں شامل تھا جنھوں نے ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو پہلی اپیل اور پھر نظر ثانی کی اپیل دونوں میں برقرار رکھا۔

جسٹس(ر) نسیم حسن شاہ نے 2011 میں اپنے ایک انٹرویو میں بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو غلطی قرار دیا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ذولفقار علی بھٹو کے وکیل یحیٰ بختیار کی ضد بھی تھی انھوں نے ہمیں( ججز کو) ناراض کر دیا تھا۔

اگر وہ اختلافی نوٹ لکھ دیتے تو کیا پاکستان کی تاریخ مختلف نہ ہوتی؟ جب سینئیر صحافی افتخار احمد نے ان سے یہ سوال پوچھا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا ’ پتہ نہیں مختلف ہوتی یا نہیں لیکن اس کی جان بچ جاتی اور مجھے بھی اس کا بعد میں کافی افسوس رہا۔‘

جسٹس نسیم حسن شاہ نے 1993 میں نواز شریف کی پہلی حکومت کی بحالی کا فیصلہ بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان سنایا تھا۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کہتے ہیں کہ اگرچہ نواز شریف کی حکومت کی بحالی کا فیصلہ پورے بینچ کا متفقہ فیصلہ تھا تاہم چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی جانب سے کیس کی سماعت سے پہلے اپنے ریمارکس میں یہ کہنا کہ وہ جسٹس منیر نہیں بننا چاہتے، پر بینچ میں شامل دیگر ججز نے اعتراض کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ عمومی طور پر ایک ساتھی جج کی حیثیت سے جسٹس نسیم حسن شاہ نے اچھے فیصلے دیے جن میں شرعی عدالتوں میں چلنے والے کیسز میں ورثا کی موجودگی میں کسی کی سزا معاف کرنے کا اختیار صدر پاکستان کے پاس نہیں ہے، کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں