کراچی: نجی سکولوں کے قریب کریکر دھماکے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی سمیت ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دو نجی سکولوں کے قریب کریکر سے دھماکے کیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے جائے وقوع سے پمفلٹ بھی برآمد کیے ہیں جن میں پھانسیوں پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ منگل کی صبح شہر کے گنجان آباد علاقے گلشن اقبال میں واقع دو نجی سکولوں کے باہر پیش آیا لیکن سکول بند ہونے کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

کراچی کے ڈی آئی جی منیر شیخ کا کہنا ہے کہ صبح چھ بج کر 50 منٹ پر موٹرسائیکل پر سوار افراد نے ایک ہی وقت دو دستی بم پھینکے جن میں سے ایک نجی سکول کے اندر جبکہ دوسرا سکول کے باہر گرا جس سے سڑک میں گڑھا پڑ گیا۔

ڈی آئی جی منیر شیخ کے مطابق ان کریکروں میں بال بیئرنگ نہیں تھے اور ان کا مقصد صرف خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

بقول ان کے دھماکوں کے وقت سکولوں کی اپنی سکیورٹی اور چوکیدار وہاں پر موجود تھے۔

ان سکولوں کے قریب اردو اور انگریزی میں تحریر شدہ چھوٹے ہینڈ بل بھی پائے گئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے لوگوں کو پھانسی دینے اور جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ بند کرو ورنہ یہ واقعہ بھرے اسکول میں بھی پیش آ سکتا ہے۔‘

ایس ایس پی پیر محمد شاہ کے مطابق ان پمفلٹوں پر کسی تنظیم یا گروہ کا نام تحریر نہیں ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں علی رضا نامی ایک شیعہ ڈاکٹر کو قتل کرنے کے جرم میں منگل کو دو شدت پسندوں عطا اللہ اور محمد اعظم کو سزائے موت دی گئی ہے۔ ان دونوں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے بتایا جاتا ہے۔

یہ پمفلٹ دیکھنے والی ایک خاتون اور سکول کے طالب علم کی والدہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پمفلٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سدھر جاؤ! ہم معصوم اور نہتے شہری کیا سدھر سکتے ہیں۔ ملزمان حکومت تک مطالبات ہمارے ذریعے پہنچا رہے ہیں اور ہم میڈیا سے حکومت تک۔ جو بڑے بچے ہیں ان میں تو کوئی خوف نہیں لیکن جو چھوٹے بچے ہیں وہ ضرور ڈرے ہوئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ بعض ایسے نجی سکولوں کو دھمکیاں ملی ہیں جن میں ذریعۂ تعلیم انگریزی ہے یا وہ مشنری سکول ہیں۔

نارتھ ناظم آباد میں واقع عبداللہ گرلز کالج کو بھی دو ہفتے قبل ایک دھمکی آمیز پرچہ موصول ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھماکوں کے وقت سکولوں کی اپنی سکیورٹی اور چوکیدار وہاں پر موجود تھے۔

کالج کی پرنسپل تنویر کے مطابق چار دیواری کے اندر کھڑی عملے کی ایک موٹر سائیکل کے کور کی جیب سے یہ پرچہ برآمد ہوا تھا، جو کاپی کا ایک صفحہ تھا۔

ان کے مطابق اس پرچے پر تحریر تھا کہ ’کل کے دن کفن تیار رکھو۔‘

پرنسپل کے مطابق انھیں لگتا ہے کہ یہ کسی طالبہ کی شرارت ہوسکتی ہے تاہم ان کی درخواست پر کالج کے باہر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔

دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی سکول پر حملے کے بعد سے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات دیے گئے تھے، اس حملے میں 130 سے زائد طالب علم ہلاک ہوگئے تھے۔

پشاور حملے کے بعد ملک بھر میں سکولوں کو سکیورٹی پلان تشکیل دینے کے لیے کہا گیا تھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے موسمِ سرما کی تعطیلات میں تقریباً دو ہفتے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ریڑھی والوں کو عمارت کی دیواروں سے دور رکھیں، عملے کا مکمل ریکارڈ رکھیں، 24 گھنٹے چوکیدار تعینات کریں اور عمارتوں کی چاردیواری آٹھ فٹ تک بلند کر کے اس پر خاردار تار اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں۔

اسی بارے میں