کرم اور خیبر میں دھماکے، چار اہلکاروں سمیت سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر ایجنسی میں ایک دھماکے کے نتیجے میں امن کمیٹی کے تین رضا کار ہلاک ہو گئے

پاکستان کے قبائلی علاقوں کرّم اور خیبر ایجنسی میں دو دھماکوں کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ہونے والے دھماکے میں چار سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ خیبر ایجنسی میں امن کمیٹی کے تین رضا کار شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بنے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق کرم ایجنسی میں دھماکہ ورنگے کے مقام پر سڑک کنارے نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا قافلہ ٹل سے پاڑہ چنار جا رہا تھا کہ دھماکے کا نشانہ بنا۔

اطلاعات ہیں کہ قافلے کے آگے چلنے والی بم ڈسپوزل سکواڈ کی گاڑی بارودی مواد سے ٹکرائی اور اس مں سوار چار اہلکار ہلاک ہوئے۔

کرم ایجنسی میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

ادھر خیبر ایجنسی میں وادی تیراہ میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں امن کمیٹی کے تین رضا کار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے ۔

یہ واقعہ وادی تیراہ کے دور افتادہ علاقے نری بابا میں پیش آیا ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق دھماکہ امن کمیٹی توحید الاسلام کے ایک مورچے کے قریب ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد مورچے کے قریب نصب کیا اور پھر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی میں شدت پسند تنظیموں کے درمیان متعدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ وادی تیراہ میں لشکر اسلام اور حکومت کی حمایتی امن کمیٹی توحید الاسلام کے رضا کار ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں۔

خیبر ایجنسی میں دوسری جانب فوجی آپریشن خیبر ون بھی جاری ہے جس میں سیکیورٹی فورسز نے زیادہ تر وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے ۔

خیبر ایجنسی سے اس وقت لاکھوں افراد بے گھر ہیں۔ حکومت نے اب پہلے مرحلے میں خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کے متاثرین کی واپسی کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس سلسلے میں واپس جانے والے متاثرین کی رجسٹریشن کا عمل کل سے شروع ہوگا ۔

اسی بارے میں