بےنظیر قتل کیس: گواہوں کے وارنٹ گرفتاری جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور دو پولیس افسران سمیت آٹھ افراد پر فرد جُرم عائد ہو چکی ہے

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بےنظیر بھٹو قتل کیس میں پانچ عینی شاہدین کے خلاف عدالت میں پیش ہونے کے سمن کی خلاف ورزی کرنے پر وارنٹ جاری کر دیے۔

مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے حکم دیا کہ ان پانچ عینی شاہدین کو گرفتار کر کے انھیں نو فروری کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

جن سرکاری گواہوں کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں ان میں ایس پی اشفاق انور، ریلوے پولیس کے ریٹائرڈ ایس پی جاوید اقبال، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف ائی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالد جمیل اور انسپکٹر نثار جدون کے علاوہ بلاول ہاؤس کے اہلکار عبدالرزاق میرانی شامل ہیں۔

ان عینی شاہدین کو عدالت نے متعدد بار پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیے تھے لیکن ان کی جانب سے مسلسل حکم عدولی پر یہ فیصلہ سنایا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو کے 27 دسمبر 2007 کو قتل کے بعد اس مقدمے کی سماعت کو شروع ہوئے سات سال ہونے کو ہیں اور اس دوران اس اہم مقدمے کی دو سو کے قریب سماعتیں ہو چکی ہیں لیکن بات ابھی تک اس مقدمے میں ملوث ملزمان پر فرد جُرم عائد کیے جانے اور چندگواہوں کے بیانات قلم بند کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

اب تک اس مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی طرف سے نو چالان پیش کیے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ مقدمہ کسی فیصلہ کن موڑ تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔

اس مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور دو پولیس افسران سمیت آٹھ افراد پر فرد جُرم عائد ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں