شکار پور دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی گزرگاہ ہے: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption شیعہ برادری نے پورے ملک میں شکار پور کے واقعے کے خلاف احتجاج کیا ہے

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ کا ضلع شکار پور فرقہ وارانہ تصادم کا شکار ہونے کے علاوہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی اہم گزرگاہ بھی ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بتایا کہ ضلع شکار پور وہ علاقہ ہے جہاں دہشت گرد اور انتہا پسند افغانستان یا صوبہ خیبر پختونخوا سے بلوچستان جاتے ہیں اور پھر شکارپور یا اس کے قریبی علاقے سے کراچی جاتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا کے اس علاقے کا نام نہیں بتا سکتے جہاں سے وہ دہشت گرد بلوچستان جاتے ہیں۔

چوہدری نثار کے مطابق سندھ حکومت شکار پور کے قریب واقع اس مرکز کے بارے میں آگاہ ہے اور سکیورٹی ایجینسیاں، پولیس اور دیگر ادارے اس پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

’ اس پر پوری توجہ ہے مگر یہ دہشت گردوں کی راہ گزر کا مرکز بن گیا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینکڑوں میل پر پھیلے اس علاقے کو نہ تو بند کرنا ممکن ہے اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ اس کے لیے پولیس یا سول فورسز کی مدد سے ایک یا دو چوکیاں بنادی جائیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ جمعے کو شکار پور کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 62 افراد ہلاک جبکہ 53 زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے کی تحقیقات کے بارے میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ ’خودکش حملہ آور کی صرف انگلی مل سکی ہے تاہم بدقسمتی سے وہ بھی زخمی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’امید ہے آج شام تک واضح ہو جائے گا کہ کیا اس کا کوئی ریکارڈ نادرا کے پاس ہے۔‘

چوہدری نثار کے مطابق اس درزی کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس نے خودکش حملہ آور کے جسم پر موجود کپڑوں کی سلائی کی تھی اور اس سے تحقیقات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں رابطوں اور خفیہ معلومات کے تبادلے میں باہمی تعاون بڑھا ہے۔ اس موقعے پر وزیر داخلہ نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے شکار پور حملے پر سندھ حکومت کے خلاف کیے جانے والے احتجاج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس کے بجائے دہشت گردی کے خلاف احتجاج کیا جانا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں