’چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والے میرے ہیرو ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب ملک میں توہین مذہب کا قانون موجود ہے تو پھر اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے شخص کے پاس نہیں: عدالت

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم ممتاز قادری کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین پر حملہ کرنے والوں کو اپنا ہیرو قرار دیا ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان افراد کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملہ کیا تھا۔

جسٹس نور الحق قریشی نے سلمان تاثیر کے مقدمۂ قتل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے طرف سے مجرم ممتاز قادری کو موت کی سزا دینے کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کو مرتد قرار دے کر موت کے گھاٹ اُتار دیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب ملک میں توہین مذہب کا قانون موجود ہے تو پھر اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے، کسی شخص کے پاس نہیں۔

وکیلِ صفائی خواجہ شریف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل سے اقبالی بیان اسلحے کی نوک پر لیا گیا جس میں اُنھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُنھوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہین رسالت کے قوانین کی مخالفت کرنے پر قتل کا ارادہ کر لیا تھا اور اُنھوں نے متعلقہ حکام سے درخواست کر کے اپنی ڈیوٹی گورنر پنجاب کی سکیورٹی پر لگائی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جب اُن پر جرح کی گئی تو ممتاز قادری نے اس بات سے انکار کیا کہ اُنھوں نے منصوبہ بندی کے تحت اپنی ڈیوٹی لگوائی تھی جبکہ حقیقت میں متعقلہ حکام نے اُن کے موکل کی ڈیوٹی سلمان تاثیر کے ساتھ لگائی تھی۔

خواجہ شریف نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقتول سلمان تاثیر کے ایک بیٹے آتش تاثیر نے اپنی کتاب میں اپنے باپ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ شراب پیتے تھے اور خنزیر کا گوشت کھاتے تھے اور اُنھیں اپنے مذہب سے بھی لگاؤ نہیں تھا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شراب پینے کے جرم سے متعلق قانون موجود ہے اور محض شراب پینے اور حرام گوشت کھانے پر کسی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا جا سکتا۔

مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کا گورنر پنجاب سے کوئی ذاتی عناد نہیں تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ممتاز قادری اس بات پر قائل تھے کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے مذہب کی مخالفت کی ہے اس لیے وہ واجب القتل ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کو مرتد قرار دے کر قتل کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ jupiter still
Image caption سلمان تاثیر کو چار جنوری 2011 کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں ہلاک کر دیا گیا تھا

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اُن کے موکل نے سلمان تاثیر کی طرف سے توہین رسالت کے قوانین کی مخالفت کرنے پر کسی عدالت میں درخواست دائر کی تھی؟ جس پر خواجہ محمد شریف کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ایک درخواست ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تاہم یہ درخواست ممتاز قادری نے دائر نہیں کی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں مجرم ممتاز قادری نے قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے قانون ہاتھ میں لے لیا۔

مجرم کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج میاں نذیر احمد نے بھی دلائل دیے۔ ممتاز قادری کے وکلا نے اپنے دلائل مکمل کر لیے اور چھ فروری کو اسلام آباد کی ایڈووکیٹ جنرل اور اس مقدمے کے وکیل استغاثہ میاں رؤف دلائل دیں گے۔

بدھ کے روز بھی اس درخواست کی سماعت کے موقع پر وکلا اور دیگر افراد کی ایک خاصی تعداد موجود تھی جو بظاہر ممتاز قادری کے حمایتی دکھائی دیتے تھے۔

اسی بارے میں