کراچی: سول سوسائٹی کے مظاہرین کی گرفتاری اور رہائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جبران ناصر کی قیادت میں سول سوسائیٹی کے اراکین نے لال مسجد کے سابق خطیب مولنا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا تھا

کراچی میں کالعدم تنظیم اہل سنت والجماعت کے خلاف مظاہرے کے دوران حراست میں لیے گئے 20 سے زائد مظاہرین کو وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔

سماجی کارکن جبران ناصر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ انھیں پولیس نے ساتھیوں سمیت حراست میں لے رکھا ہے تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انھیں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی ہدایات کے بعد رہا کر دیا گیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی عبدالخالق نے بی بی سی کو بتایا کہ سول سوسائٹی کا پرامن مظاہرہ دو روز سے جاری تھا تاہم اب اس نے فرقہ وارانہ نوعیت اختیار کر لی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ 20 سے زائد اراکین جمعرات کو تیسرے روز بھی وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے آئے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ اہل سنت والجماعت کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق پولیس حکام نے مظاہرین سے کہا کہ انھیں احتجاج کے لیے متبادل جگہ دی جائے گی تاہم انھوں نے پولیس کے ساتھ جھگڑا کیا اور ان میں چند افراد ایسے بھی تھے جنھوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا مگر ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سول سوسائٹی کے اراکین گذشتہ دو روز سے کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے مظاہرے کر رہے تھے جن میں وہ شکار پور واقعے کی مذمت کر رہے ہیں اور ان کے مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حکومت کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔

متعلقہ علاقے میں موجود پولیس حکام نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ تین خواتین سمیت 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

اس سے قبل جبران ناصر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی شام سات بجے لکھا کہ انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور فریئر ہال پولیس سٹیشن میں ہیں۔

ڈی آئی جی عبدالخالق کے مطابق جبران ناصر اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم اب بھی کچھ لوگ میڈیا کے انتظار میں پولیس سٹیشن میں ہی موجود ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں اہل سنت والجماعت سمیت مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف مسالک کے رہنماؤں کو سیکیورٹی حفاظتی اقدامت کے پیش نظر فراہم کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں