پاک چین راہداری منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی: احسن اقبال

Image caption سال 2015 گزشتہ سال کے ہوم ورک کے نتیجے میں طے پانے والے منصوبوں کے کک آف اور لانچ کا سال ہوگا: احسن اقبال

حکومتِ پاکستان نے سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی روز سے چین کے لیے پاکستان سے گزرنے والی راہداری میں تبدیلیوں سے متعلق افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2013 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے چینی صدر کے دورے کے بارے میں دوبارہ بات چیت کا آغاز ہوا ہے بعض حلقوں نے دونوں ممالک کے درمیان تلخیاں پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

ان کا مقصد، بقول ان کے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو روکنا ہے۔

سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی روز سے پاک چین تجارتی راہداری سے متعلق بحث چل رہی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مختصر اور پسماندہ علاقوں سے اس راستے کو گزارنے کی بجائے اسے زبردستی پنجاب سے لے جایا جا رہا ہے جس سے ان علاقوں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔

اس بابت کئی تقشے اور تصاویر بھی شئیر کی جا رہی تھیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چینی صدر کی آمد پر توقع کی جا رہی ہے کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد شروع کیا جا سکے۔ ’سنہ 2015 گذشتہ سال کے ہوم ورک کے نتیجے میں طے پانے والے منصوبوں کے کک آف اور لانچ کا سال ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاک چین معاشی راہداری کے منصوبہ پاکستان کو اس خطے میں اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے ایک مرکزی حیثیت دیتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان چند سڑکیں بنانا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے پاکستان کی اقتصادی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے۔

احسن اقبال کے مطابق جب ستمبر 2014 میں چین کے صدر کے دورہ پاکستان متوقع تھا تو اسے پہلے سیاسی انتشارکے ذریعے اس کے خلاف پروپیگینڈا کیا گیا اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان چین سے مہنگے قرضے لے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین نے ایسے وقت میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی جب دنیا خطے کے حالات کی وجہ سے لوگ یہاں سرمایہ کاری نہیں کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان اور چین کے درمیان معاشی راہداری کے منصوبے کی لاگت 45 ارب ڈالر ہے

’بعض ہمارے قائدین اس پروپیگنڈے میں اتنے آگے چلے گئے کہ کچھ نے کہا کہ ہم چین معاشی راہداری کو کالا باغ ڈیم کی طرح نہیں بننے دیں گے۔‘

وزیر برائے منصوبہ بندی نے کہا کہ یہ 45 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور اتنی بڑی سرمایہ کاری پر عمل درآمد کے لیے وقت درکار ہوتاہے۔

انھوں نے کہا کہ اس منصوبےسے پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے علاوہ کشمیر اور گلگت بلتستان بھی مستفید ہوں گے۔

احسن اقبال نے گوادر پورٹ کے آپریشنل منصوبے پر بھی تفصیلی بات کی اور بتایا کہ یہ صرف پاکستان نھیں بلکہ وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان میں مال کی نقل وحمل کے لیے کام آئے گی۔

اسی بارے میں