بغداد سے پروازیں بند، 300 زائرین محصور ہیں: دفترِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption زیادہ تر پاکستانی اتحاد ائیرلائینز کے مسافر ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فضائی سروس کی بندش کی وجہ سے تقریباً 300 پاکستانی عراق کے دارالحکومت بغداد میں محصور ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران تسنیم اسلم نے بتایا کہ عراق میں پاکستانی مشن نے تصدیق کی ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے عرس میں شرکت کے لیے 300 کے قریب پاکستانی زائرین بغداد گئے تھے۔ ’تاہم وہاں اردن، امارات، اتحاد ائیرلائنز کی سروس بند کر دی گئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’بہت سے پاکستانی اتحاد ائیرلائنز کے مسافر تھے تاہم قطر اور ترک ایئر لائنز بغداد سے فضائی سروس جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

ترجمان دفترِ خارجہ نے بغداد میں موجود پاکستانی زائرین کے بارے میں بتایا کہ وہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے مزار کے کمپلیکس میں مقیم ہیں اور ان کے لیے خوراک کا ’مناسب‘ انتظام کیا گیا ہے۔

تسنیم اسلم نے صحافیوں کو بتایا کہ بغداد میں پاکستانی مشن کے شعبہ کمیونٹی ویلفیئر کے اتاشی عامر رحمٰن نے تین فروری 2015 کو ان پاکستانی زائرین سے ملاقات کی اور ان کی فوری ضروریات کو پورا کیا۔ بعدازاں انھوں نے زائرین کےگروپ کے سربراہ کے ہمراہ اتحاد ائیرلائن کے دفتر کا دورہ بھی کیا اور پاکستانیوں کی جلد وطن واپسی کے لیے بات کی۔

’فضائی سروس کی انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ان افراد کو ترجیحی بنیادوں پر پاکستان بھیجا جائے گا۔‘

دفترِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانی مشن سے ابو ظہبی میں موجود اتحاد ائیر لائینز کے حکام سے رابطہ کرنے کو کہا ہے تاکہ انھیں بغداد میں محصور پاکستانیوں کی ایک ہی پرواز کے ذریعے وطن واپسی کے لیے بڑے طیارے کے انتظام کا کہا جائے۔

یاد رہے کہ دو فروری کو عراقی حکومت نے ملک سے کئی ماہ سے جاری کرفیو کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عراق کا دارالحکومت بغداد اکثر خود کش دھماکوں کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں اسے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے لاحق خطرہ کم ہوا ہے۔

عراقی فوج دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے جس نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں