نیشنل ایکشن پلان: ’نفرت انگیز تقاریر، مواد کی تشہیر پر 540 کیسز درج‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پاکستان کے وزیراعظم نے 20 نکاتی نیشنل ایکشن کا اعلان 25 دسمبر کو کیا تھا

پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے سلسلے میں جاری کارروائیوں میں ایف آئی اے نے اب تک غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک رقم بھجوانے والے 24 افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ منی لانڈرنگ کے پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے موصول ہونے والے بیان کے مطابق حوالہ ہنڈی کے ذریعےبیرون ملک رقم منتقل کرنے والے 24 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے 70 کروڑ سے زائد رقم برآمد کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اندرون ملک بھی ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے والے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے پانچ کیسز درج ہوئے ہیں جن میں متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔

دہشت گردوں سے متعلق اطلاع کے لیے حکومت کی جانب سے مہیا کردہ ہیلپ لائنز 1717 کے ذریعے 161 ایسی کالز موصول ہوئی جن پر کارروائی کی گئی۔

پریس ریلیز کے مطابق اب تک ڈھائی کروڑ موبائل فون سمز کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سب سے زیادہ سمز ٹیلی نار سروس کی ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت 24 دسمبر کے بعد سے اب تک ملک بھر میں 14500 سے زائد کارروائیوں میں دس ہزار 616 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبہ پنجاب میں 9413 کارروائیوں میں 1993 افراد کو حراست میں لیا گیا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 2724 کارروائیوں میں افراد 6038 افراد گرفتار ہوئے۔

صوبہ سندھ میں اب تک کیے جانے والے آپریشنز کی تعداد 1577 ہے جبکہ زیرحراست افراد کتعداد 1533 ہے۔ صوبہ بلوچستان میں 336 آپریشنز میں 460افراد گرفتار ہوئے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد 505 بتائی گئی ہے جبکہ یہاں 336 کارروائیاں ہوئیں۔

اسی طرح گلگت بلستان میں 21 کارروائیوں میں 10 افراد حراست میں لیے جا چکے ہیں جبکہ قبائلی علاقہ جات میں کل 56 آپریشنز میں 129 افراد کو پکڑا گیا۔

آزاد جموں کشمیر میں 20 کارروائیوں میں فقط سات افراد کو گرفتار کیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں موجود اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر ملک بھر سے کل 2035 افراد گرفتار ہو چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب سے سامنے آئی ہے جو کہ 1806 بتائی گئی ہے۔

نفرت انگیز مواد کی تشہیر پر 540 کیسز درج ہوئے ہیں یہاں بھی پنجاب 455 نمبروں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ گلگت بلتستان میں دو کیسز کے ساتھ سب سے آخری نمبر پر ہے۔

اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 405 افراد کو حراست میں لیا اور 41 دکانوں کو سیل کر دیا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق 3416 افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا گیا ہے۔ ان مہاجرین میں دوہزار 844 خیبرپختونخوا میں تھے جبکہ 376 فاٹا میں مقیم تھے، 195 بلوچستان میں اور فقط ایک افغان مہاجر دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم تھا۔

اسی بارے میں