’گھر میں شرعی ماحول ہو گا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت نے لال مسجد سے منسلک جامعہ حفصہ میں مقیم خاتون عظمیٰ قیوم اور ان کے والدین کے درمیان صلح ہونے پر عظمیٰ کو گھر جانے کا حکم دیا ہے۔

عظمیٰ قیوم کے والد شیخ محمد قیوم نے پشاور کے سانحے کے بعد لال مسجد کے سابق خطیب کو ان کے طالبان نواز رویے کے بعد عدالت سے رجوع کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو جامعہ حفصہ والوں نے ’یرغمال بنایا ہوا ہے اور ان کی برین واشنگ کر دی ہے‘۔

شیخ قیوم کے مطابق ان کی 26 سالہ بیٹی جون 2014 میں جامعہ حفصہ گئی تھیں اور تب سے وہ ادھر ہی مقیم تھیں۔

شیخ قیوم کے وکیل محمد حیدر امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل نے ہیوم رائٹس سیل میں درخواست دی تھی جس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس کیس کو سیشن کورٹ بھیجا۔

حیدر امتیاز نے بتایا کہ والدین اور بیٹی کے درمیان ایک صلح نامہ ہوا ہے۔ ’کچھ شرائط عظمیٰ کی تھیں اور کچھ ان کے والدین کی۔ دونوں شرائط ماننے پر رضا مند ہو گئے ہیں جس پر سیشن کورٹ جج نذیر احمد گجانہ نے عظمیٰ کو والدین کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔‘

شیخ قیوم کے وکیل نے مزید بتایا کہ پیر کو جامعہ حفصہ کی منتظم امِ حسان کو طلب کیا اور کہا کہ ’صلح نامہ ہو گیا ہے اور اب آپ بھی اس معاملے کی مزید پیروی نہ کریں۔‘

حیدر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موکل کی جانب سے ایک حلف نامہ عدالت میں جمع کرا دیں گے جس کے بعد ان کے موکل اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

وکیل حیدر امتیاز کے مطابق سیشن جج ویسٹ نے سیکشن 491 کے تحت کارروائی کی اور عظمیٰ کو پہلے جامعہ حفصہ سے دارلامان بھجوایا گیا تاہم وہاں اس کی والدین سے ملاقات نہیں ہو سکی۔

بعدازاں عظمیٰ کو خواتین کے شیلٹر ہوم میں دس روز تک رکھا گیا اور پھر والدین سے ملاقات کا انتظام کیا گیا۔

’جب وہ دارلامان میں تھیں تو وہ خاندان سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ تاہم جب وہ شیلٹر ہوم میں گئیں تو خاندان سے روز ملاقاتیں ہوئیں تو صورتحال بہتر ہوئی۔‘

اسی بارے میں