بینظیر بھٹو قتل کیس میں نیا موڑ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت میں ایک نیا موڑ آگیا ہے جب اس مقدمے میں سرکاری گواہ اور ایس ایس پی جعفر آباد محمد اشفاق انور نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کی ذمہ داری اُن کے سیکیورٹی افسر ایس ایس پی میجر ریٹائرڈ امتیاز پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے سابق وزیر اعظم کولیاقت باغ کے باہرگاڑی سے باہر نکلنے کی اجازت دی۔

اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اشفاق انور نے اسلام آباد کے مجسٹریٹ کو ایک بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں اُنھوں نے سیکورٹی کی کمی کی تمام تر ذمہ داری اُس وقت کے ڈی آئی جی راولپنڈی سعود عزیز پر عائد کی تھی۔ اس بیان کے بعد اشفاق انور خصوصی کورس کے لیے بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس نے لیاقت باغ جلسے کے دوران بینظیر بھٹو کی حفاطت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی طاقت سے بڑھ کر اقدامات کیے تھے جبکہ مقامی انتظامیہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان یہ تحریری معائدہ ہوا تھا کہ ستائیس دسمبر سنہ 2007 کو بینظیر بھٹو جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس چلی جائیں گی لیکن اس کے بعد اُنھوں نےبلٹ پروف گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا جس کے کی وجہ سے خودکش حملہ آور کو کارروائی کرنے کا موقع مل گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واضح رہے کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان نے تفتیش کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ لیاقت باغ کےجلسے کے دوران اُنھیں کارروائی کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا اور اُنھوں نے طے کرلیا تھا کہ وہ جہلم میں بینظیر بھٹو کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کریں گے جہاں پر اُنھیں نے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوئی۔راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز اسماعیل جوئیہ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران اشفاق انور سمیت وہ چار سرکاری گواہان موجود تھے جن کی عدم پیشی پر عدالت نے اُن کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

اشفاق انور کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کو فیض آباد سے لیاقت باغ تک لےکر جانے اور پھر اُنھیں واپس لے جانے کی ذمہ داری اُن کی تھی تاہم اس دوران کرال چوک پر میاں نواز شریف کے جلسے پر فائرنگ کی نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد اُس وقت کے ڈی آئی جی راولپنڈی سعود عزیز نے اُنھیں جائے وقوعہ پر بھیج دیا تھا۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق اب تک بینظیر بھٹو کے مقدمے میں 39 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں جبکہ پانچ مذید گواہان پیش کیے جائیں گے جس کے بعد اس مقدمے کے تفتیشی افسران کے بیان قلمبند ہوں گے۔

منگل کے روز پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک کارندے کا بیان قلمبند کیا جائے گا جنہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کی تھی جو اپنے کسی ساتھی سے اس واقع سے متعلق بات کر رہے تھے۔