پاکستان کی اجازت سے فنڈنگ ہوتی ہے: سعودی عرب

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption نئے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے پیش رو کی پالیسیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کسی بھی مسجد، مدرسے یا خیراتی ادارے کو حکومت پاکستان سے رابطے کے بغیر امداد نہیں دی جاتی۔

پاکستان میں سعودی سفارتخانے کی جانب سے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے ایک حصے کی جانب سے غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ سعودی حکومت انتہاپسندانہ نظریات کے حامل مذہبی مدارس کو معاشی مدد فراہم کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’جب بھی کسی مدرسے، مسجد یا خیراتی ادارے کی جانب سے سعودی عرب سے معاشی معاونت مانگی جاتی ہے تو سفارتخانہ درخواست گذار کی جانچ کے لیے اس معاملے کو وزارتِ خارجہ کے ذریعے حکومتِ پاکستان تک پہنچاتا ہے۔‘

سعودی سفارتخانے نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وزارت خارجہ کی جانب سے سفارخانے کو تحریری طور پر آگاہ کیے جانےکی صورت میں کہ معاشی امداد عوام کی فلاح کے لیے ہے درخواست گذار کو امداد دے دی جاتی ہے۔

’امداد ہمیشہ فرقہ ورانہ لحاظ سے بالاتر ہوتی ہے۔‘

بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ سعودی حکومت دہشت گردی کے تدارک کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے اور وہ انسانی ہمدردی اور فلاح کے لیے دی جانے والی امداد کے حوالے سے بہت محتاط ہوتی ہے کہ یہ انتھاپسندانہ عناصر کے ہاتھوں میں نہ چلی جائے۔

یاد رہے کہ 20 جنوری کو پاکستان کے وفاقی وزیربرائے بین الصوبائی رابطہ کاری ریاض پیرزادہ نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک نجی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سعودی عرب اور امریکہ کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کو تباہ کیا اور یہ دہشت گردی کے زیراثر آیا، اور سعودی عرب اپنا نظام پاکستان سے لے کر چیچنا تک اپنا مذہبی نظام پہنچانا چاہتا تھا۔اور تمام مسلم دنیا سعودی پیسے سے تباہ ہو گئی لیکن اب وقت آگیا ہے کہ سیاست دانوں کو اور گلیوں میں موجود لوگوں کو بولنا ہوگا۔‘

تاہم اپنا بیان دینے کے اگلے روم ہی وفاقی وزیرریاض پیرزادہ نے وزیراعظم کو ایک وضاحتی خط لکھا اور کہا کہ میڈیا نے ان کے بیان کو غلط انداز میں لیا ہے انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔