کسی بھی ملک سے غیر رسمی مالی معاونت کا سختی سے جائزہ: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’پاکستان کی معاشی ترقی میں سعودی عرب کا اہم حصہ ہے‘

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے نجی سطح پر کسی شخص یا ادارے کی جانب سے غیر رسمی طور پر پاکستان کے کسی نجی ادارے کو ملنے والی امداد کا نیشنل ایکشن پلان کے تحت سختی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا تحریری بیان ایک روز قبل سعودی سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں آیا ہے۔

پیر کو سعودی سفارت خانے نے ایک تحریری بیان میں پاکستان کو دی جانے والی فنڈنگ کے بارے میں وضاحت کی تھی کہ ’جب بھی کسی مدرسے، مسجد یا خیراتی ادارے کی جانب سے سعودی عرب سے مالی معاونت مانگی جاتی ہے تو سفارت خانہ درخواست گزار کی جانچ کے لیے اس معاملے کو وزارتِ خارجہ کے ذریعے حکومتِ پاکستان تک پہنچاتا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا ہے کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سفارت خانے کو تحریری طور پر آگاہ کیے جانےکی صورت میں کہ مالی امداد عوام کی فلاح کے لیے ہے، درخواست گزار کو امداد دے دی جاتی ہے۔

منگل کو پاکستانی دفترِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں سعودی عرب کا اہم حصہ ہے اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو معاشی امداد کی پیشکش اور کسی منصوبے میں ملنے والی معاونت پر پاکستانی حکومت کے متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں کی مشاورت سے آتی ہے اور اس پر دفترِ خارجہ کے ذریعے عمل درآمد ہوتا ہے۔

تاہم غیر سرکاری سطح پر پاکستان میں کسی ملک یا کسی ذریعے سے آنے والی نجی امداد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا جائزہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت لیا جاتا ہے۔

بیان کے مطابق: ’لیکن دہشت گردوں اور دہشت گرد اداروں کی مالی مدد کے ہر امکان کو روکنے کے لیے نجی اداروں کو غیر رسمی ذریعوں سے نجی اداروں اور افراد کی جانب سے ملنے والی فنڈنگ کی، چاہے وہ کسی بھی ملک یا ذریعے سے ہو، دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت سختی سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔‘

سعودی سفارت خانے کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میڈیا کے ایک حصے کی جانب سے غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ سعودی حکومت انتہاپسندانہ نظریات کے حامل مذہبی مدارس کو مالی مدد فراہم کرتی ہے

یاد رہے کہ 20 جنوری کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کاری ریاض پیرزادہ نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک نجی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سعودی عرب اور امریکہ کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کو تباہ کیا اور یہ (اسی کی وجہ سے) دہشت گردی کے زیراثر آیا۔ سعودی عرب اپنا نظام پاکستان سے لے کر چیچنیا تک اپنا مذہبی نظام پہنچانا چاہتا تھا۔ تمام مسلم دنیا سعودی پیسے سے تباہ ہو گئی لیکن اب وقت آگیا ہے کہ سیاست دانوں کو اور گلیوں میں موجود لوگوں کو بولنا ہو گا۔‘

تاہم اپنا بیان دینے کے اگلے روم ہی وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے وزیراعظم کو ایک وضاحتی خط لکھا اور کہا کہ میڈیا نے ان کے بیان کو غلط انداز میں لیا ہے اور انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔

اسی بارے میں