’بلدیہ فیکٹری آتش زدگی کیس ایک سال میں ہی مکمل ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ reuters video still
Image caption 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتش زدگی سے 264 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتش زدگی کے مقدمے کی کارروائی ایک سال میں مکمل کرنے کے حکم کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس فیکٹری میں آگ لگانے والے مبینہ ملزم رضوان قریشی کی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ کی اہمیت اور تعلق کا فیصلہ متعلقہ عدالت کرے گی، جس میں یہ رپورٹ پیش کی جائےگی۔

بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو آتش زدگی کے واقعے میں 259 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر اور جسٹس ظفر راجپوت پر مشتمل ڈویژن بینچ نے منگل کو علی انٹر پرائز کے مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ کی درخواست کی سماعت کی۔

ان دونوں بھائوں کے وکیل اعجاز احمد نے عدالت کو آگاہ کیا اس مقدمے میں 578 گواہ ہیں جن کے بیانات ایک سال میں مکمل ہونا ممکن نہیں۔

انھوں نے عدالت سے گزارش کی کہ مقدمے کی کارروائی ایک سال میں مکمل کرنے کے حکم میں لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔

تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ مقدمہ ایک سال میں مکمل کیا جائے گا تاہم درخواست گزاروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔

سماعت کے دوران پائلر اور سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ رینجرز کی جانب سے حال ہی میں غیر قانونی اسلحے کے مقدمے میں عدالت میں پیش کی جانے والی جی آئی ٹی رپورٹ کا بلدیہ فیکٹری آتش زدگی کیس سے تعلق جوڑے جانے سے غلط تاثر پیدا ہوا جو غلط رپورٹنگ کی وجہ بھی بنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مقدمہ ایک سال میں مکمل کیا جائے گا تاہم درخواست گزاروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا: سندھ ہائی کورٹ

فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ رینجرز نے بلدیہ واقعے میں کوئی انکوائری نہیں کی اور نہ ہی رینجرز نے یہ کہا ہے کہ انھوں نے اس واقعے کی جے آئی ٹی کی ہے۔ انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ یہ جی آئی ٹی کسی اور کیس میں ہے لیکن اس میں بلدیہ واقعے کا بھی ذکر ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم رضوان قریشی نے جے آئی ٹی میں جو بیان دیا ہے اس میں یہ نہیں کہا کہ اس نے یہ واردات کی ہے یا کوئی اور جو جب یہ کر رہا تھا تو وہ وہاں موجود تھا اور اس کے علاوہ ملزم نے یہ بھی نہیں کہا کہ یہ باتیں اس نے خود سنی ہیں، یہ تمام چیزیں کسی تیسرے آدمی نے سنائی ہیں، یعنی یہ ایک سنی سنائی بات ہے جس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے دلائل کے بعد عدالت نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ رپورٹنگ میں محتاط رویہ اپنائے کیونکہ اس جے آئی ٹی کی وجہ سے کافی ’کنفیوژن‘ پیدا ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ رینجرز نے چند روز قبل عدالت میں ایک سربمہر رپورٹ جمع کرائی تھی اور عدالت کے استفسار پر رینجرز کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ 2013 میں پولیس نے ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا تھا جس کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے اور اس نے دوران تفتیش جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کو بتایا کہ وہ بلدیہ فیکٹری آتش زدگی میں ملوث ہے۔

رینجرز کی رپورٹ کے مطابق رضوان قریشی کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے جنھیں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایس ایس پی جنوبی کے حکم پر ان سے مشترکہ ٹیموں نے تفتیش کی جس میں ملزم نے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

اسی بارے میں