ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کی خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ایم کیو ایم میں کشیدگی جاری ہے

متحدہ قومی موومنٹ نے لندن میں سابق وفاقی وزیر رحمان ملک اور الطاف حسین کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سندھ حکومت میں ایک بار پھر شمولیت کی تصدیق کر دی ہے۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق اس مرتبہ دونوں جماعتوں کے مابین تحریری معاہدہ ہو گا جس پر عمل درآمد اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں دونوں جانب سے دو دو ارکان شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ حکومتی معاملات کے حل کے لیے دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق رحمان ملک نے الطاف حسین کو سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے یقین دلایا کہ اس مرتبہ ایم کیو ایم کو اس کا جائز حق ملے گا اور ہر شعبے میں 40-60 کے فارمولے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سابق صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔

الطاف حسین اور رحمان ملک کے درمیان ملاقات میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتیں سینیٹ کے انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گی جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کو سات اور ایم کیو یم کو چار نشستیں ملیں گی۔

ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کی خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ایم کیو ایم میں کشیدگی جاری ہے۔

دونوں کی جانب سے سیاسی اور ذاتی نوعیت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

ایم کیو ایم نے منگل کو کراچی میں الطاف حسین کے ساتھ یکجہتی ریلی کا اعلان کر رکھا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حکومت میں شمولیت کے مذاکرات کی خبر رینجرز کی جانب سے بلدیہ فیکٹری واقعے کی رپورٹ اور 12 مئی واقعے کے ملزم کی گرفتاری سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کو سیاسی سطح پر اور میڈیا میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں