پاکستان میں غیر ملکیوں کے اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption وفاقی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بات کا بھی پتہ چلانے کا حکم دیا ہے کہ ان غیر ملکیوں نے کیسے بینک اکاؤنٹ کھلوائے

وفاقی حکومت نے قانون نافد کرنے والے اداروں کو پاکستان میں بسنے والے غیر ملکیوں کے بینک اکاؤنٹس اور اُن کی آمدنی کے ذرائع مانیٹر کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

ان اداروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کا بھی پتہ چلائیں کہ ان غیر ملکیوں نے کس طرح اپنے اکاؤنٹس پاکستانی بینکوں میں کھلوائے ہیں۔

اس کے علاوہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کو پاکستان میں بسنے والے غیر ملکیوں کی تفصیلات صوبوں کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایاگیا کہ اس وقت ملک بھر میں 60 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جس کے بعد چوہدری نثار علی حان نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر کالعدم تنظیموں کی فہرست کا اقوام متحدہ کی طرف سے قرار دی گئیں کالعدم تنظیموں کے ساتھ موازنہ کریں۔

منگل کے روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد پر کڑی نظر رکھیں اور ایسی تنظیموں کو دوبارہ متحرک ہونے کی اجازت نہ دیں۔

اجلاس کو بتایاگیا کہ شدت پسند تنظیموں کی طرف سے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کی اشاعت کو روکنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو متحرک کر دیاگیا ہے۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ غیر قانونی موبائل سم کے استعمال کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دینے سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے جس کے بعد اس پر قانون سازی کی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں واقع دس میڈیا ہاوسز میں پینِک بٹن الرٹ سسٹم لگا دیا گیا ہے اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں 76 اہم عمارتوں کی سکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیکر اُنھیں سرخ، پیلا اور گرین کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں