’سکیورٹی کے خصوصی ادارے کا قیام حتمی مراحل میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس ادارے میں ابتدائی طور پر 317 افراد کو بھرتی کیا جائے گا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک کی اندرونی سیکیورٹی کے لیے ڈائریکٹیوریٹ آف انٹرنل سکیورٹی کے ادارے کے قیام کو حتمی شکل دے دی ہے اور اس ضمن میں جامع پالیسی مرتب کرنے کے لیے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایسے افسران کے ناموں کی فہرست طلب کی ہے جو شدت پسندی کے سدباب اور کالعدم تنظیموں کے نیبٹ ورک کو توڑنے میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

یہ اقدام شدت پسندی کے خلاف بنائے گئے قومی ایکشن پلان کے تحت اُٹھایا گیا ہے اور اس ادارے کی سربراہ انسداد دہشت گردی کےقومی ادارے یعنی نیکٹا کے کوارڈینیٹر ہوں گے۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد ملک کے خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی معلومات کا تجزیہ کرنے کے بعد قانون نافد کرنے والے اداروں کو مناسب اقدامات تجویز کرنا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس ادارے میں حاضر سروس اہلکاروں کے علاوہ ریٹائرڈ افسران کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی جو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

اہلکار کے مطابق اس ادارے میں ابتدائی طور پر 317 افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ جن میں برگیڈئیراور ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کے تین تین افسران شامل ہوں گے اس کے علاوہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ میجر جنرل کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق کرنل اور ایس ایس پی رینک کے دس دس افسران کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔

اہلکار نے بتایاکہ صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے سدباب میں ماہر سمجھے جانے والے ریٹائرڈ افسران کے ناموں کے ساتھ ساتھ اُن کا سروس ریکارڈ بھی ساتھ بھیجا جائے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق صوبوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریٹائرڈ پولیس افسران کے موجودہ سٹیٹس اور اُن کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔

اہلکار کے مطابق اس ڈاریکٹوریٹ میں ایسے صحافیوں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی جنہوں نے شدت پسندی اور پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک پر تحقیقی کام کیا ہے۔

اہلکار کے مطابق اس ادارے کی تشکیل کے بعد وزارت داخلہ کا نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل بھی اس میں زعم ہو جائے گا اور ایسے افراد کو اُن کے اداروں میں واپس بھیجا جائے گا جو ڈیپوٹیشن پر نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل میں آئے ہیں۔

اسی بارے میں