’پڑھی لکھی خواتین بھی اپنے حقوق سے ناواقف‘

Image caption اس ہیلپ لائن سے آگہی دینے کے لیے ریڈیو ٹیلی وثیرن اور اخبارات میں تشہیری مہم بھی زوروشور سے جاری ہے جس سے کالز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

لاہور میں ایک معروف نجی آئی ٹی کمپنی کے دوسرے فلور پر ایک کیبن میں 15 خواتین ہیڈ فونز لگائے مسلسل فون کرنے والوں سے محو گفتگو ہیں۔

یہ حال ہی میں خواتین کے لیے شروع کی گئی ہیلپ لائن کی کال ایجنٹس ہیں جو پنجاب بھر سے خواتین کے مسائل اور شکایتیں سنتی اور ان کی مدد کرتی ہیں۔

عائشہ اورنگزیب اس ہیلپ لائن کی سپروائزر ہیں۔

’ہماری ہیلپ لائن صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے۔ ہم پہلے کال کرنے والی خاتون سے پوری معلومات لیتے ہیں کہ ان کا کیا مسئلہ ہے پھر ان کا نام پتہ اور شناختی کارڈ نمبر معلوم کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ہم ان خواتین سے دستاویزات بھی منگواتے ہیں تاکہ ان کی دی ہوئی معلومات کی تصدیق کر سکیں جس کے بعد ہم مسئلے کو حل کرنے کے لیےمتعلقہ محکموں سے رابطہ کرتے ہیں۔‘

پنجاب حکومت نے خواتین کو وراثت میں حصے کی ادائیگی، کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے سے تحفظ دلانے، یکساں اجرت، تنخواہ کے حصول اور 30 فیصد چھوٹے قرضے دلانے کے قوانین منظور کیے ہیں۔

مفت ہیلپ لائن کا مقصد ان قوانین پر موثر طریقے سے عمل درآمد کروانا ہے۔ یہاں خواتین خود سے روا رکھے جانے والے جسمانی، ذہنی اور معاشی تشدد کی شکایت درج کروا سکتی ہیں اور اپنے قانونی حقوق کے بارے میں آگہی بھی لے سکتی ہیں۔

شگفتہ شاہد لاہور کے ہیومن رائٹس سینٹر میں وکیل سے بلا معاوضہ قانونی مشاورت لے رہی ہیں۔ ان کے بھائی نہ صرف آبائی مکان میں ان کاحصہ دینے سے انکاری تھے بلکہ ان پر جسمانی تشدد بھی کر رہے تھے۔

شگفتہ ویمن ہیلپ لائن کے ذریعے یہاں آئیں اور اب اپنے بھائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تیاری کر رہی ہیں۔

شائستہ نے بتایا کہ انھیں ہیلپ لائن سے متعلق معلومات ٹیلی ویژن پر چلنے والے اشتہار سے ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ خاندان میں کوئی مرد موجود نہیں تھا جو ان کی مدد کرتا اس لیے انھیں ہیلپ لائن پر کال کرکے خود ہی اپنا حق لینے کا قدم اٹھانا پڑا۔

اس ہیلپ لائن سے آگہی دینے کے لیے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں تشہیری مہم بھی زوروشور سے جاری ہے جس سے کالز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

Image caption ویمن ہیلپ لائن ستمبر کے آخری ہفتے میں شروع کی گئی تھی۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران یہاں دو لاکھ سے زائد کالز موصول ہوئیں جن میں 13,500 کے لگ بھگ خواتین پر جسمانی تشدد اور معاشی استحصال سے متعلق تھیں

ویمن ہیلپ لائن ستمبر کے آخری ہفتے میں شروع کی گئی تھی۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران یہاں دو لاکھ سے زائد کالز موصول ہوئیں جن میں 13,500 کے لگ بھگ خواتین پر جسمانی تشدد اور معاشی استحصال سے متعلق تھیں۔

ہیلپ لائن پر آنے والی اکثر کالز معلومات کے لیے ہوتی ہیں تاہم وراثت میں حصہ نہ ملنے کی شکایات بھی عام ہیں۔

زاہدہ شکیل وکیل ہیں اور سارا دن ہیلپ لائن ایجنٹس کے ساتھ ہی موجود رہتی ہیں تاکہ کالز کو قانونی رہنمائی مل سکے۔

زاہدہ شکیل نے بتایا ’ہم یہاں خواتین کو قانونی مشاورت دے رہے ہیں لیکن ہمارے پاس خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کا مضبوط ریفرل سسٹم ہے۔ اگر کسی کو قانونی مدد، شیلٹر چاہیے یا کسی کو نفسیاتی مدد چاہیے تو ہمارے ایسے اداروں سے رابطے ہیں جو بلا معاوضہ خواتین کو یہ سہولیتں فراہم کرتے ہیں اور اگر کوئی اپنے شوہر یا گھروالوں سے صلح صفائی کرنا چاہے تو ہم اس حوالے سے بھی ان کو مدد دیتے ہیں۔‘

زاہدہ کے مطابق پڑھی لکھی خواتین کو بھی اپنے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے موجود قوانین سے واقفیت نہیں۔ طلاق یا خلع کے معاملات ہوں بچوں کا نان نفقہ یا پھر کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے واقعات خواتین ان قوانین سے لاعلم ہیں اس لیے اکثر کالز تو محض ان معاملات میں رہنمائی کے لیے ہی موصول ہوتی ہیں۔

یہ ہیلپ لائن ریسکیو اور پولیس کی طرح ہنگامی ہیلپ لائن نہیں۔ تاہم کسی ہنگامی صورت میں خواتین اگر یہ نمبر ملائیں تو کال ایجنٹس پولیس اور ریسکیو کی خواتین تک رسائی کو یقینی بناتے ہیں۔

پنجاب کی خواتین کی حیثیت سے متعلقہ کمیشن کی سربراہ فوزیہ وقار کہتی ہیں کہ کسی بھی محکمے سے انصاف یا رسائی نہ ملنے کی صورت پر یہاں رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

’یہ ہمارا اختیار نہیں کہ ہم ایف آئی آر درج کریں یا کسی کا میڈیکو لیگل کروائیں یا بورڈ آف ریونیو کا کام کریں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ خواتین کی کسی جگہ تک رسائی نہیں ہوئی یا وہ کسی ادارے کی کارکردگی سے مطمئین نہیں یا ان کی کسی ادارے سے مدد کے لیے رابطے کی کوشیش کامیاب نہیں ہوئی تو ہم یقینی بناتے ہیں کہ خواتین کی بات سنی جائے۔‘

عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات سے متعلق شکایات بھی ہیلپ لائن پر درج نہیں کروائی جاسکتیں۔

پنجاب میں موجود 12 ہیومن رائٹس سینٹر اور تمام دارلامان کی ہیلپ لائن کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے۔

ان اداروں میں خواتین کو عارضی اور مستقل پناہ دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں