حالات میں بہتری اداروں میں تعاون کا نتیجہ ہے: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک بھر میں شدت پسندی کی حمایت کے شک میں 12 ہزار افراد گرفتار ہوئے ہیں: وزیر داخلہ

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے حالات میں کافی بہتری آئی ہے اور اب ہفتوں حملے نہیں ہو رہے ہیں اور غیرقانونی تنظیموں پر پابندی کی نگرانی کے لیے ایک نیا سیل بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی میں بعض اراکین کی جانب سے حکومتی کارکردگی پر تنقید کے جواب میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اب ویسے دہشت گرد حملے نہیں دیکھے جا رہے ہیں جیسے کہ ماضی میں روزانہ کی بنیاد پر ملک بھر میں ہو رہے تھے۔

’ہمیں کسی خوش فہمی اور غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنا اتفاق اور اتحاد مزید مضبوط کرنا چاہیے ۔۔۔ اس میں صوبوں نے صوبوں کے ساتھ، صوبوں نے وفاق کے ساتھ اور میڈیا نے تعاون کیا ہے۔‘

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 60 تنظیمیں غیرقانونی ہیں اور اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے کُل 177 کو غیر قانونی قرار دیا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس پر منظم طریقے سے کام ہو رہا ہے۔ ’اقوام متحدہ کی فہرست والی صرف دس تنظیمیں ہماری فہرست میں شامل ہیں۔ ہم اس تمام نظام کو دوبارہ منظم کر رہے ہیں۔ ہم نے امریکہ یا بھارت کے کہنے پر کسی پر پابندی نہیں لگانی۔ صرف اقوام متحدہ کی فہرست کو ہمیں مانا پڑتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کو رقوم کی ترسیل روکنے کے لیے بھی کام ہو رہا ہے۔ ’سات کروڑ روپے پکڑے گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ اس پر کام ہو رہا ہے جس میں ہمیں بین الاقوامی مدد کی ضرورت بھی ہو گی۔‘

میڈیا سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا چار بڑے اداروں کا نام نہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ ان سے ملاقات میں انھوں نے حکومت سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

’آج دو ماہ ہو چکے ہیں لیکن اس کے بعد سے کسی میڈیا چینل پر ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ پاکستان کے آزاد میڈیا نے حب الوطنی کا ثبوت نہ دیا ہو۔ انھوں نے ان کا بلیک آؤٹ کیا۔‘

Image caption پاکستان کے آزاد میڈیا نے حب الوطنی کا ثبوت نہ دیا ہے اور انھوں نے ان کا [شدت پسندوں کا] بلیک آؤٹ کیا ہے

مدارس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایوان مناسب سمجھے تو وہ بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں اس کی تفصیل بتا سکتے ہیں۔ ’میں بند کمرہ اجلاس کا حامی نہیں ہوں لیکن اس میں کئی سکیورٹی مسائل ہیں جو بیرونی ممالک سے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ہم بعض اداروں پر بےجا تنقید کرتے ہیں جو جائز نہیں ہے۔ مدارس کے نمائندوں نے ان تمام ان مطالبات پر اتفاق کیا ہے جن کا حکومت ان سے تقاضا کر رہی تھی۔‘

ایوان میں اپنے پالیسی بیان میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ اب تک پھانسی پر سے پابندی اٹھانے کے بعد سے 22 افراد کو سزائیں دی جا چکی ہیں جبکہ 17 پر عمل درآمد جاری ہے۔

جعلی موبائل سموں کی دوبارہ تصدیق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے غیرقانونی کال ٹریفک پر بھی قابو پایا جا رہا ہے۔

اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ حکومت کو مطلع کریں اور اس پر فوری کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے مذہبی یا فرقہ ورانہ تقاریر کی بنیاد پر مقدمات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 3265 مقدمات کا اندراج ہوا ہے جن میں سے 2065 ملزم گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔

نفرت پر اکسانے والی تقاریر کے بارے ان کا کہنا تھا کہ 500 سے زائد مقدمات درج ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں شدت پسندی کی حمایت کے شک میں کی گئی 16 ہزار سے زائد کارروائیوں میں 12 ہزار مشتبہ افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ ’ان میں سے اکثر پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیے جاتے ہیں لیکن 140 کا تعلق ثابت ہوا ہے، لہٰذا ان سے اس بنیاد پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قومی سکیورٹی پالیسی کے نتیجے میں کارروائیاں ہوئی ہیں اور اس کی روزانہ پریس کانفرنس میں تفصیل نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں میں تعاون بڑھا ہے اور ان کا آپس میں مقابلہ نہیں ہو رہا۔

اسی بارے میں