’غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی‘، کراچی سٹاک ایکسچینج میں مندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غیر ملکی سرمایہ کار نیشنل ٹریڈنگ کمپنی آف پاکستان کے ذریعے سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان کی زیادہ سرمایہ کاری گیس اور تیل کے شعبوں میں موجود ہے اور اس وجہ سے حصص مارکیٹ میں ان کا حصہ 34 فیصد تک پہنچ گیا تھا

پاکستان کے بازارِ حصص میں رواں ہفتے کے چوتھے روز بھی مندی کا رجحان رہا اور کراچی سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 417 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار اپنے حصص فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ کو مندی کا سامنا ہے۔

کراچی سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو 100 انڈیکس کی ابتدا 34,232 پوائنٹس سے ہوئی اور ایک سطح پر اس میں 700 پوائنٹس سے بھی زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی لیکن بعد میں اس میں بہتری آئی اور دن کے اختتام پر 100 انڈیکس کے سودے 417 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 33,786 پر آ کر بند ہوئے۔

تجزیہ نگار احمد خان ملک کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار اپنی حصص فروخت کر رہے ہیں اور اس وجہ سے سٹاک کی سطح میں کم ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ کافی دنوں سے جاری تھا لیکن اس سے پہلے مقامی سرمایہ کار یہ حصص خرید کر رہے تھے لیکن اب ان کے پاس بھی سرمایہ دستیاب نہیں۔

واضح رہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار نیشنل ٹریڈنگ کمپنی آف پاکستان کے ذریعے سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان کی زیادہ سرمایہ کاری گیس اور تیل کے شعبوں میں موجود ہے اور اس وجہ سے حصص مارکیٹ میں ان کا حصہ 34 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔

احمد ملک کا کہنا ہے کہ کراچی سٹاک مارکیٹ میں فروری کے گیارہ روز میں غیر ملکی سرمایہ کار 6 کروڑ 22 لاکھ ڈالرز کی مالیت کے حصص فروخت کر چکے ہیں۔

کراچی سٹاک مارکیٹ میں پچھلے دنوں تیزی کا رجحان رہا 100 انڈیکس 31 سے 35 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔

تجزیہ نگار مزمل اسلام کا کہنا ہے کہ سطح بلند ہونے کے ساتھ کچھ کمپنیوں کے حصص کی قیمت بڑہ گئی تھی اس لیے کچھ لوگ تو منافع کے لیے حصص فروخت کر رہے ہیں اور کچھ ملکی حالات کا بھی اثر ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رجحان دیکھ کر کچھ مقامی کمپنیوں کے حصص کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا۔ ’

بروکر ظفر موتی کا کہنا ہے کہ اینگرو کے حصص میں تیزی آئی اور ان کی دیکھا دیکھی دیگر بڑے گروپس نے بھی حصں فروخت کرنا شروع کر دیے جس سے وہ بروکر جو قرضے یا بدلے پر حصص کا کاروبار کرتے ہیں دباؤ میں آگئے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی خطے میں پاکستان کی مارکیٹ سستی ہے اور اس میں اب بھی بڑہنے کی گنجائش موجود ہے۔

اسی بارے میں