کشمیر: ڈرائیور بھارتی تحویل میں مگر ایل او سی پر تجارت بحال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منقسم کشمیر میں دونوں طرف سے تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت چھ دن سے بند تھی

پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے درمیان تجارتی گاڑیوں اور مسافر بسوں کی آمدورفت کا سلسلہ چند دن کے تعطل کے بعد بحال ہوگیا ہے۔

تجارت کا سلسلہ گذشتہ جمعے کو اس وقت معطل ہو گیا تھا جب بھارتی حکام نے منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے آنے والے ایک ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے لیا تھا۔

مظفرآباد میں ٹریڈ اینڈ ٹریول اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز احمد وائیں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے مظفرآباد سے جانے والے 22 مال بردار گاڑیوں میں سے 21 کو واپس بھیج دیا ہے اور ایک ٹرک کو روک لیا گیا ہے۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ گرفتار شدہ ٹرک ڈرائیور بھارتی عدالت سے ضمانت کے بعد ہی واپس آ سکے گا۔

ان کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے 50 مال بردار گاڑیوں کو واپس روانہ کر دیا ہے جبکہ تجارت اور مسافروں کی آمدورفت معمول کے مطابق ہو گئی ہے۔

امتیاز احمد وائیں نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے سرحد کے اس طرف سے آنے والے تجارتی ٹرک سے منشیات کی برآمدگی کے الزام کے بعد غفلت اور بدانتظامی کے مرتکب افسر بشارت اقبال کے خلاف تھانہ چناری میں مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ضلع ہٹیاں تہذیب النسا کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر پر ریاست کےخلاف ہونے والی سازش میں ملوث ہونے، قانونی اختیارت رکھنے کے باوجود جرائم نہ روکنے، جعلی دستاویزات تیار کرنے اور جعل سازی اور فراڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تھانہ چناری کے ایس ایچ او راجہ امجد کے مطابق اس تاجر کی تلاش بھی جاری ہے جس کے بھیجے گئے سامان سے مبینہ طور پر منشیات برآمد ہوئی ہیں۔

ادھر گرفتار ڈرائیور عنایت شاہ کے اہلِ خانہ نے ان کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں