ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی ہے

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی میں ایک ماہ کی مزید توسیع کردی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے یہ احکامات اسلام آباد پولیس کی جانب سے لکھے جانے والے خط کی روشنی میں جاری کیے ہیں۔

ِخیال رہے کہ ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔ ان کی نظر بندی 14 فروری کو ختم ہو رہی تھی۔

ذکی الرحمٰن لکھوی ان دنوں اڈیالہ جیل میں نظر بند ہیں جبکہ ان کی ممبئی حملہ سازش تیار کرنے اور ایک شخص کو اغوا کرنے کے مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی ہیں۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر ملزمان بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق ملزم جیل سے رہا ہونے کے بعد غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے اس لیے اس کی نظر بندی میں توسیع کی جائے۔

ادھر اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ایک شخص کے اغوا کے مقدمے میں ذکی الرحمان لکھوی کی بریت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان پر ایک شخص کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جن کو وہ جانتے تک نہیں اور جس عرصے میں اس واقعے کے رونما ہونے کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں بند تھے۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل ندیم تابش نے اس درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں گواہوں کے بیانات اور دیگر ثبوت عدالت میں جمع نہیں کروائے گئے اس لیے مقدمے میں بریت کی درخواست قبل از وقت ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ذکی الرحمٰن لکھوی کی بریت کی درخواست مسترد کردی۔

واضح رہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کے خلاف ابھی تک درج ہونے والے دونوں مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے تاہم وفاقی حکومت نے امن و امان کے خدشات کے سبب ذکی الرحمان لکھوی کو نظر بند رکھا گیا ہے جس کے خلاف ملزم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

وفاقی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ذکی الرحمٰن لکھوی کی ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں