ورلڈ کپ کے لیے نیک تمنائیں، مودی کا نواز شریف کو فون

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی بڑھی ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے فون پر بات چیت کی ہے اور کرکٹ کے عالمی مقابلوں کے تناظر میں نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

یہ فون کال جمعے کو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے نواز شریف کو کی گئی۔

نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے نواز شریف کے علاوہ افغان صدر اشرف غنی، بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ اور سری لنکن صدر سے بھی بات کی ہے اور انھیں کرکٹ ورلڈ کپ کے حوالے اپنی نیک تمنائیں پہنچائی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں 11ویں ورلڈ کپ میں اپنے سفر کے آغاز میں ہی اتوار کو ایڈیلیڈ میں مدمقابل آ رہی ہیں۔

تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس گفتگو میں کرکٹ کے عالمی کپ کے سلسلے میں نیک تمناؤں کا تو ذکر نہیں کیا گیا بلکہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نواز شریف کو بتایا کہ بھارت کے نئے خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر سارک ممالک کا دورہ کرنے والے ہیں اور پاکستان بھی آنا چاہتے ہیں۔

بیان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھارتی خارجہ سیکریٹری کے دورے کا خیرمقدم کیا جس میں تمام باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی جائے گی۔

بھارت میں قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی بڑھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں 11ویں ورلڈ کپ میں اپنے سفر کے آغاز میں ہی اتوار کو ایڈیلیڈ میں مدمقابل آ رہی ہیں۔

اگرچہ بے جی پی کے رہنما نریندر مودی کے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لینے کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی۔

گذشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور بھارت کی جانب سے دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ بھی معطل کیا گیا ہے۔

مودی نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں سارک کے پانچ رکن ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہیں اور اس خطے میں کرکٹ کا کھیل عوام کو آپس میں جوڑتا ہے اور خیرسگالی کا پیغام لاتا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سارک ممالک کے کھلاڑی پورے جوش سے کھیلیں گے اور اعزازات جیتیں گے۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق نریندر مودی نے1987 کے عالمی کپ کو یاد کرتے ہو ئے وزیر اعظم نوازشریف سے مذاق بھی کیا اور کہا کہ ایسا بھی وقت تھا ’جب آپ اور عمران خان ساتھ ساتھ تھے۔‘

خیال رہے کہ نریندر مودی نے ایک ایسے موقع پر نواز شریف کو فون کیا ہے جب ایک دن قبل ہی روز امریکی صدر نے بھی پاکستانی وزیراعظم سے فون پر بات کی تھی۔

نواز شریف نے اس بات چیت میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل نشست کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف نے امریکی صدر سے کہا کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بھی بننا چاہتا ہے۔

اوباما نواز گفتگو

ادھر وزیرِ اعظم ہاؤس سے براک اوباما کی نواز شریف سے بات چیت کے بارے میں جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی صدر نے پاکستانی وزیرِ اعظم سےگفتگو میں جہاں علاقائی معاملات پر بات کی وہیں انھیں اپنے حالیہ دورۂ بھارت کے بارے میں بھی مطلع کیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کے حالیہ دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جوہری سمجھوتے اور بات چیت پر پاکستان میں کچھ بے چینی دیکھی گئی تھی۔

اس دورے کے بعد پاکستانی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان بھارت کو اہم ہمسایہ سمجھتا ہے اور اس سے باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر معمول کے تعلقات چاہتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیرِ اعظم ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے مثبت تعلقات کی پذیرائی کرتا ہے۔

بیان کے مطابق نواز شریف نے نصف گھنٹے کی اس بات چیت میں براک اوباما سے کہا کہ پاکستان بھارت کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی حمایت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔

وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق نواز شریف نے امریکی صدر سے کہا کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بھی بننا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں