سوات کا سکیئنگ سکول جو طالبان سے نہ ڈرا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میری خواہش تھی کہ میں بھی یہاں امن کی بحالی اور ہم آہنگی میں اپنا حصہ ڈالوں: مطیع اللہ خان

دوسال پہلے بی بی سی نے ایک خبر میں بتایا تھا کہ طالبان کے ہاتھوں تباہی کے بعد ایک شخص کیسے پاکستان میں سکیئنگ کے واحد پرائیویٹ سکول کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

خبر کے شائع ہونے کے بعد ہمارے درجنوں قارئین اور ناظرین نے کہا کہ وہ اس شخص کی مدد کرنا چاہتے۔ بہت اچھی خبر یہ ہے کہ اس سکول کو ایک ٹن سے زیادہ وزن کا ساز وسامان مل چکا ہے۔

جب سنہ 2009 میں پاکستانی فوج نے طالبان کو وادی سوات سے نکال باہر کیا تو مطیع اللہ نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ سکول کو ضرور دوبارہ تعمیر کریں گے اور بچوں کو موقع دیں گے کہ وہ سکیئنگ سے لطف اندوز ہوں۔

’میری خواہش تھی کہ میں بھی یہاں امن کی بحالی اور ہم آہنگی میں اپنا حصہ ڈالوں، یہی سوچ کر ہم نے یہاں سکیئنگ کا ایک چھوٹا سا مقابلہ منعقد کیا۔‘

’بہت کم لوگ اس مقابلے میں شرکت کے لیے آئے، لیکن میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ بچے کتنے خوش تھے، ان کے چہرے پر خوشی کے جذبات صاف دیکھ جا سکتے تھے۔‘

اس وقت سکول کے پاس صرف دو تین سکیز تھیں اور پولز کے صرف دو تین جوڑے تھے۔ زیادہ تر بچے درخت سے کاٹی ہوئی لکڑی کے ڈنڈوں کی مدد سے سکیئنگ سیکھ رہے تھے اور پاؤں کو ایک جگہ قائم رکھنے کے لیے انھوں نے بورڈز پر کیلیں لگائی ہوئی تھیں۔

برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیوں اور شفاف جھرنوں اور ندیوں کے لیے مشہور وادی سوات دو سال تک طالبان کے تسلط میں رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس وقت سکول کے پاس صرف دو تین سکیز تھیں اور پولز کے صرف دو تین جوڑے تھے۔

سابق پائلٹ اور باریش مطیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’عسکریت پسندوں کے دور میں یہاں پر سکیورٹی کی صورتحال اس قدر خراب تھی کہ ہر کوئی خوف میں رہ رہا تھا۔‘

’ہم لوگ باقی دنیا سے بالکل کٹ چکے تھے۔ ہم نے بہت سے سکولوں کو تباہ ہوتے دیکھا، یہاں بچوں کی کوئی زندگی نہیں تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے اور معمول کی زندگی بھی نہیں گزار پا رہے تھے۔‘

مسٹر خان کا خیال تھا کہ جو بچے اتنے برے حالات سے گزر چکے تھے ان کے ذہنوں کا بہترین علاج یہ ہو سکتا ہے کہ انہیں سکیئنگ کی طرف بلایا جائے۔

’کچھ کھیل ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو بہادر بناتے ہیں۔ تیز رفتاری سے برف پر پھسلتے ہوئے پہاڑوں سے اترنے میں آپ کو بہت مزا آتا ہے، لیکن اس سے آپ کو حوصلہ بھی ملتا ہے۔ اس سے آپ کو توانائی ملتی ہے کہ آپ آگے بڑھیں اور زندگی میں مزید بڑے کام کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان مشکلات کے باوجود سوٹئزرلینڈ سے ایک شخص کا اصرار تھا کہ وہ مدد کرنا چاہتا ہے۔

سنہ 2013 میں مسٹر خان کی کہانی پڑھنے کے بعد فرانس، کینیڈا، امریکہ، ناروے، برطانیہ اور آسٹریا سے لوگوں نے بی بی سی کے ساتھ رابطے کر نا شروع کر دیے۔ انھوں نے ہمیں کہا کہ ہم ان کا رابطہ مسٹر خان سے کرائیں تاکہ وہ انھیں سکیئنگ کا سامان بھجوا سکیں۔

لیکن مسٹر خان کے بقول ’یہ کام بہت مشکل تھا کیونکہ اس میں سامان کو سوات پہنچانے کے لیے پیسے کا سوال تھا اور اس سامان پر کسٹمز ڈیوٹی کا خرچ بھی جس کے لیے ہمارے پاس کوئی پیسے نہیں تھے۔‘

ان مشکلات کے باوجود سوئٹزر لینڈ سے ایک شخص کا اصرار تھا کہ وہ مدد کرنا چاہتا ہے۔ اور پھر آخر کار مارک فرُوڈویلر سرکاری دفاتر کی پیچیدگیوں اور سامان کی ترسیل کے جھمیلوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئے اور مسٹر خان کے سکول کو وہ کچھ بھجوا دیا جو سکول کو ضرورت تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرُوڈویلر کے دماغ پر ایک ہی دُھن سوار تھی کہ وہ مسٹر خان کی مدد کر کے رہیں گے۔

فرُوڈویلر کو مسٹر خان کے ساتھ لگاؤ ہو گیا کیونکہ فرُوڈویلر کی اہلیہ تانیہ کا تعلق کراچی سے ہے اور اس لحاظ سے ان کے تین بچے آدھے پاکستانی ہیں۔

مسٹر فرُوڈویلر نے اپنی مقامی سکیئنگ کلب سے مدد کی درخواست کی، جس کے بعد ان کے پاس عطیات کا ڈھیر لگ گیا۔ مسٹر فرُوڈویلر کا کہنا تھا کہ ’جب ان لوگوں نے خبر پڑھی تو مسٹر خان کی بات ان کے دل کو لگی۔‘

دو ٹن کا ساز وسامان اکھٹا کر لینے کے بعد اگلا سوال یہ تھا کہ اس تمام سامان کو کیسے بحفاظت سوات پہنچایا جائے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا کیونکہ اتنے وزنی سامان کو بھجوانے کے لیے درکار رقم اور اس پر کسٹمز کے سرخ فیتے کے چکروں سے نمٹنا آسان نہیں تھا اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں سکیورٹی کے برے حالات کا تو ذکر ہی نہ کریں۔

آخر کار پاکستانی حکام کی تجویز یہ تھی سارے سامان کو مالم جبّہ پہنچانے کا ایک ہی یقینی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی فضائیہ سے مدد لی جائے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سکیئنگ کی تنظیم ’سکی فیڈریشن آف پاکستان‘ کی سرپرست بھی ایئر فورس ہے اور سکیئنگ اس کے ہوابازوں کی تربیت میں شامل ہوتی ہے۔

فرُوڈویلر اور خان اس بات پر متفق ہو گئے کہ پاکستان ائیر فورس سے مدد لی جائے گی اور اس کے عوض سامان میں سے کچھ حصہ ائیر فورس کو بھی دیا جائے گا۔ مسٹر خان کا کہنا تھا کہ ’ میں نے اس تجویز سے اتفاق کیا کیونکہ اگر پاکستانی فضائیہ بھی یہ سامان ملک میں سکیئنگ کے فروغ کے لیے استعمال کرے گی تو ہمارا اور ان کا مقصد ایک ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رُوڈویلر کو مسٹر خان کے ساتھ لگاؤ ہو گیا کیونکہ فرُوڈویلر کی اہلیہ تانیہ کا تعلق کراچی سے ہے

فرُوڈویلر کے دماغ پر ایک ہی دُھن سوار تھی کہ وہ مسٹر خان کی مدد کر کے رہیں گے۔ چنانچہ دو سال کی جد وجہد کے بعد ان کا جذبہ کام آیا اور آج سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے یہ ساز و سامان پاکستان پہنچ گیا۔

’جب ہم نے سارا سامان کھولا تو ہم اس قدر خوش ہوئے۔ میرے شاگرد بہت خوش ہوئے۔ مختلف سائز کی سکیز، برف پر پھسلنے والے تختے (سنو بورڈز)، دھات کے بنے ہوئے ڈنڈے (پولز)، سکیئنگ کے مخصوص بُوٹ، گرم کپڑے اور ہیلمٹ، غرض کہ ہر چیز بڑے سلیقے کے ساتھ پیک کی ہوئی تھی اور تمام سامان اچھی حالت میں تھا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے آپ کا دیرینہ خواب پورا ہو گیا ہو۔‘

فرُوڈویلر بھی مسٹر خان سے اتفاق کرتے ہیں کہ سکیئنگ بچوں کے لیے بہت اچھا کھیل ہے۔ ’اس سے انھیں نظم و نسق اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کا سبق ملتا ہے۔ سکیئنگ انھیں درست راستے پر رکھتی ہے اور انہیں ایسی مہارت دیتی ہے جو آئندہ زندگی میں ان کے کام آتی ہے۔‘

سوات کے بچوں کو دلیر بننا پڑے گا کیونکہ یہ وہ نسل ہے جسے شدت پسند سوچ سمجھ کر نشانہ بنا چکے ہیں اور اپنے ڈیسکوں پر بیٹھے ہوئے طالبعلموں کو گولیاں مار چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

میں کئی مرتبہ مسٹر خان سے پوچھ چکی ہوں کہ آیا انہیں فکر ہے کہ شدت پسند آئندہ بھی حملے کر سکتے ہیں۔

’ہر کوئی خوف محسوس کر رہا ہے۔ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، کچھ بھی ہو سکتا ہے‘

’لیکن کیا کِیا جا سکتا ہے، ہمارے ملک اور ہمارے علاقے کے یہی حالات ہیں آجکل۔ لیکن یہ ہمار ملک ہے، ہمیں اسی جگہ پر رہنا ہے اور امن قائم کرنے کے لیے ہمیں جو کام کرنے ہیں وہ ہم نے کرنے ہیں۔ تاہم اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔‘

فرُوڈویلر کہتے ہیں کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ وہ بھی سوات کے بچوں کے کام آئے۔ ’جو کام مطیع اللہ کر رہے ہیں، وہ بہت قابل تحسین کام ہے اور یہ اسی قسم کی شمع ہے جسے روشن کرنے کی ضرورت ہر جگہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ دونوں حضرات بہت قریبی دوست بن چکے ہیں اور انھوں نے ابھی سے آئندہ کے منصوبے بنانا شروع کر دیے ہیں۔ خان کی خواہش ہے کہ جلد ہی ایک سکی لفٹ حاصل کی جائے تاکہ سکیئنگ کے لیے پہاڑوں پر راستے یا ٹریک بنائے جا سکیں۔ اس کے علاوہ وہ اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ ان کا سوئٹزر لینڈ والا دوست وادی سوات میں سیاحت کی بحالی میں ان کی کیا مدد کر سکتا ہے۔

آخر میں میں خان کے شاگردوں کو ایک ہی نصیحت کر سکتی ہوں اور وہ یہ کہ اب جب ان کے پاس اچھا سامان آ گیا ہے تو ان کی تربیت بھی سخت ہونے جا رہی ہے کیونکہ مسٹر خان کہتے ہیں کہ ’اب سکیئنگ کے چیمپیئن وادی سوات سے آئیں گے۔‘

اسی بارے میں