بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے قافلے پر بم حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف جسٹس مختلف اضلاع میں ماتحت عدالتوں کا جائزہ لینے کے لیئے دورے کر رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے قافلے کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم وہ اس میں محفوظ رہے ہیں۔

ان کے قافلے کو سینیچر کے روز کوئٹہ سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر دور جنوب مشرق میں ضلع نوشکی کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

نوشکی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے ضلع خاران کے قریب ریکو کے علاقے انجیری میں سڑک کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

یہ دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹ گیا جب چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ محمد نور مسکانزئی کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔

چونکہ چیف جسٹس کے قافلے کی گاڑیوں پر جمیرز لگے ہوئے تھے جس کے باعث چیف جسٹس کی گاڑی اور اس کے قریب کی گاڑیاں دھماکے کی زد میں نہیں آئیں۔

انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ دھماکے سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

محمد نور مسکانزئی حال ہی میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے تھے۔

چیف جسٹس مختلف اضلاع میں ماتحت عدالتوں کا جائزہ لینے کے لیے دورے کر رہے ہیں۔

وہ چند روز بیشتر نوشکی گئے تھے اور وہاں سے اپنے آبائی ضلع خاران کے دورے پر گئے تھے۔

آج وہ انتہائی سخت سیکیورٹی میں خاران سے واپس کوئٹہ کی جانب آرہے تھے۔

ادھر بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بجلی کے 220 ’ کے وی‘ ٹرانسمیشن لائن کے دو کھمبوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا۔

واپڈا کے ذرائع کے مطابق ضلع کے علاقے چھتر میں نامعلوم افراد نے دو کھمبوں کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے کھمبوں کو نقصان پہنچا اور اس لائن سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

اس لائن سے بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے بلوچستان کے 15اضلاع میں بجلی کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں