پشاور دھماکے: ہلاکتیں 22 ، طالبان کمانڈر کے خلاف مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption متعدد ہلاک شدگان کی نمازِ جنازہ جمعے کی شب ہی ادا کر دی گئی تھیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعے ہو ہونے والے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ان حملوں کا مقدمہ تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنما امیر عمر نرے کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

یہ تین خودکش دھماکے حیات آباد میں واقع امامیہ مسجد میں جمعے کی دوپہر اس وقت ہوئے تھے جب وہاں بڑی تعداد میں لوگ نماز کے لیے جمع تھے۔

پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپیلیکس کی انتظامیہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جمعے کو ان حملوں میں 20 افراد کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو 19 سالہ لڑکے سمیت مزید دو زخمی چل بسے۔

انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق اس وقت ہسپتال میں 49 زخمی زیرِ علاج ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

ادھر پشاور پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی نے حیات آباد تھانے کے ایس ایچ او کی مدعیت میں تحریکِ طالبان پاکستان کے طارق گیدڑ گروپ کے سربراہ عمر نرے کے خلاف ان حملوں کا مقدمہ درج کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک حملہ آور نے خود کو مسجد کے برآمدے میں دھماکے سے اڑایا جبکہ ایک حملہ آور کی باقیات مسجد کے ہال سے ملی ہیں۔

سی ٹی ڈی تھانے کے محرر قاسم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان رہنما کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کی تھی اور ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ڈاکٹر عثمان کی پھانسی کا بدلہ ہے۔

طالبان کی جانب سے اس کارروائی میں حصہ لینے والے شدت پسندوں کی تصویر بھی جاری کی گئی تھی جس میں انھیں عمر نرے کے ہمراہ دکھایا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ عمر امیر عرف نرے اس وقت افغانستان میں روپوش ہے۔ یہ کمانڈر آرمی پبلک سکول حملے میں بھی ملوث تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عمر امیر عرف نرے اس وقت افغانستان میں روپوش ہے

حیات آباد میں خودکش بم دھماکوں کے بعد خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس ناصر درانی نے بیان دیا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار تھی جو امام بارگاہ کے باہر لگی باڑ کاٹ کر اور دیوار پھاند کر آئے۔

حملہ آوروں نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے آرمی پبلک سکول پر حملے کی طرز پر پہلے اپنی گاڑی کو آگ بھی لگائی تھی۔

آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ ایک حملہ آور نے خود کو مسجد کے برآمدے میں دھماکے سے اڑایا جبکہ ایک حملہ آور کی باقیات مسجد کے ہال سے ملی ہیں۔

خیال رہے کہ یہ رواں برس شیعہ مسلک کی مساجد کو نمازِ جمعہ کے موقع پر نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل صوبہ سندھ کے شہر شکار پور میں کربلائے معلّیٰ نامی امام بارگاہ میں دھماکے سے 60 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں