اہلسنت و الجماعت کا حکومتی یقین دہانیوں کے بعد دھرنا ختم

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption جڑواں شہروں میں حالیہ مہینوں میں فرقہ ورانہ دہشت گردی کا یہ دوسرا واقعہ ہے

حکومت پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم اہلِ سنت والجماعت نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں سپریم کورٹ کے سامنے جاری اپنے دھرنے کو حکومت کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کے اسلام آباد کے صدر غلام مصطفیٰ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھرنا وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیم کے مقامی ترجمان مظہر صدیقی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے اہم افسران کو شامل کیا جائے۔

اس کے علاوہ غلام مصطفیٰ بلوچ نے کہا کہ تنظیم کے ذمہ داران کی سکیورٹی واپس کرنے کی یقین دہانی کی گئی ہے۔

اس سے قبل راولپنڈی میں حکومت پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم اہلِ سنت والجماعت کے مقامی ترجمان مولانا مظہر صدیقی فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہوگئے جس کے خلاف تنظیم کا کارکنان نے سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے دھرنا دیا۔

اہلِ سنت والجماعت کی جانب سے ترجمان کی نماز جنازہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سپریم کورٹ کے سامنے پڑھانے کا اعلان کیا گیا۔

دھرنا ختم کرنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کے حکام کے علاوہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی بھی سپریم کورٹ پہنچے اور اہلِ سنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کے ساتھ مذاکرات کیے۔

اس سے قبل اہلِ سنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے شاہرا دستور پر دھرنا دیے ہوئے کارکنان سے خطاب کیا۔

تنظیم کے کارکنوں کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے پولیس کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔ تاہم کارکنان ریڈ زون میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور انھوں نے وہاں دھرنا دے دیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اے ایس ڈبلیو جے کی قیادت نے مظہر صدیقی کی نماز جنازہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سپریم کورٹ کے سامنے ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم پولیس نے جماعت کے کارکنان کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا ہے اور انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی ہے۔

اس سے قبل راولپنڈی کی پولیس نے بتایا کہ مظہر صدیقی کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پیر ودھائی روڈ پر اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے ترجمان اس حملے میں موقع پر ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ان کے ساتھی زخمی ہوئے جنھیں پمز ہسپتال اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا مظہر صدیقی پر حملے کا خطرہ تھا اور انھیں بتایا گیا تھا کہ گھر سے نکلنے سے پہلے مقامی پولیس کو آگاہ کریں تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے انتظامیہ کو اس سے آگاہ نہیں کیا۔

ادھر تنظیم کے مرکزی صدر علامہ اورنگزیب فاروقی پر بھی کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے تاہم وہ محفوظ رہے ہیں۔

کراچی میں تھانہ شاہ لطیف پولیس سٹیشن کے سب انسپکٹر محمد اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شب ایک بجے قائد آباد کے علاقے میں سویڈش کالج کے قریب کالعدم تنظیم اہلِ سنت والجماعت کے مرکزی صدر علامہ اورنگزیب فاروقی پر اس وقت مسلح افراد نے حملہ کیا جب وہ گاڑی میں سوار تھے۔

انھوں نے بتایا کہ موٹرسائیکل پر سوار مسلح حملہ آوروں نے مولانا اورنگزیب فاروقی کی گاڑی کے ٹائروں پر گولیاں برسائیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق حملے میں گاڑی میں سوار کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم اہلِ سنت والجماعت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ مولانا اورنگزیب قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں اور تنظیم کی جانب سے اس حملے کے خلاف اتوار کی شام چار بجے کراچی کے علاقے قائد آباد میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں