اہلسنت والجماعت کے سربراہ، کارکنان کے خلاف مقدمات درج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے اہلسنت والجماعت کے خلاف نفرت انگیز منافرت پھیلانے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں اسلام آباد کے تھانے آبپارہ میں ایک دوسرا مقدمہ درج کیا ہے

اسلام آباد پولیس نے مذہبی منافرت پھیلانے اور کارِ سرکار میں مداخلت پر اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی سمیت دیگر عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کو اہلسنت والجماعت نے سپریم کورٹ کے باہر اپنے رہنما مولانا مظہر صدیقی کی ہلاکت پر احتجاج کیا تھا۔

مولانا مظہر صدیقی کو نامعلوم مسلح افراد نے راولپنڈی میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کی ایف آئی آر میں ریڈ زون میں واقع نادرا چوک سے مولانا صدیقی کی لاش کو سپریم کورٹ لے جانے اور وہاں تعینات پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور ان کی لاٹھیاں چھیننے کے الزامات کا بھی ذکر ہے۔

پولیس نے اہلسنت والجماعت کے خلاف نفرت انگیز منافرت پھیلانے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں اسلام آباد کے تھانے آبپارہ میں ایک دوسرا مقدمہ درج کیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق جن فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ ناقابل ضمانت ہیں اور ان مقدمات میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ہی مارے جائیں گے۔

مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پہلے بھی اہلسنت والجماعت کے ارکان کے خلاف مقدمات درج ہیں لیکن انھیں گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی گرفتاری کے لیے احکامات دیے گئے ہیں۔

ادھر اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے ان مقدمات کے اندارج کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے کارکن کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے پولیس ان کے کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔

جماعت کے ترجمان حافظ اُنیب فاروقی کے مطابق پولیس کے لاٹھی چارج کی وجہ سے ان کے تین کارکن زخمی ہوئے تاہم اُنھوں نے قائدین کی ہدایت پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا۔

ترجمان کے مطابق ان کی جماعت کو کبھی بھی کالعدم قرار نہیں دیا گیا اور وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ترجمان کے دعوے کے برعکس پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے اہلسنت والجماعت کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں