بھارتی ماہی گیروں کی رہائی، ’اب بھارت بھی پاکستانی قیدی رہا کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور بھارت اکثر ایک دوسرے ماہی گیروں کو غلطی سے سمندری حدود میں داخل ہونے پر گرفتار کر لیتے ہیں

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کی ملیر جیل سے رہا ہونے والے 172 بھارتی ماہی گیر واہگہ کے راستے اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں۔

اتوار کو سزا پوری ہونے والے ان ماہی گیروں کو کراچی کی ملیر جیل سے رہا کیا گیا تھا اور پیر کو لاہور کی واہگہ سرحد پر ان کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق یہ ماہی گیر مچھلیاں پکڑتے ہوئے غلطی سے پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

ان ماہی گیروں کی سزا پوری ہو چکی تھی اور اب حکام کے مطابق انھیں جذبہ خیر سگالی کے طور پر رہا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے ماہی گیروں کی وطن واپسی سے دو دن پہلے ہی وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات کی وجہ سے زیادہ کشیدہ ہیں۔

ماہی گیروں کی رہائی پر پاکستانی دفتر خارجہ کی قائم مقام ترجمان رفعت مسعود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا:’پاکستان ماہی گیروں کی رہائی کو ایک انسانی ہمدردی کا عمل سمجھتا ہے تاہم ایسا پہلے بھی کرتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمیں ماضی میں بھارت کی جانب سے اس کا پرخلوص جواب نہیں ملا۔‘

دفتر خارجہ نے یہ بیان بھی جاری کیا ہے کہ پاکستان کو توقع ہے کہ بھارت ماہی گیروں کی رہائی کے اس خیر سگالی کے عمل کا مثبت جواب دیتے ہوئے بھارتی جیلوں میں قید ان تمام پاکستانی قیدیوں کو رہا کر دے گا جن کی سزا پوری ہو چکی ہے ـ

دفتر خارجہ کی ترجمان رفعت مسعود نے دو دن پہلے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم مودی کے درمیان بات چیت سے امید ظاہر کی کہ تعلقات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بات چیت اور مذاکرات کو ترجیح دی ہے اور اس مرتبہ بھی مذاکراتی عمل بھارت کی جانب سے معطل کیا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان پرامید ہے کہ مذاکرات کا عمل بحال ہو گا تاہم اس پر قبل از وقت تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ عمل کب شروع ہو گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ پیش رفت سے پہلے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں قید ماہی گیر رہا کرتے ہیں۔

اسی بارے میں