مسلح افواج کی پریڈ، دینی مدارس ایک ہفتے کے لیے بند

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق پولیس کے خفیہ ادارے سپیشل برانچ کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں واقع مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے

وفاقی حکومت نے 23 مارچ کو مسلح افواج کی پریڈ کے موقع پر اسلام آباد کے گردونواح میں واقع دینی مدارس اور مزاروں کو ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اس بارے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق شکرپڑیاں کے قریب جہاں مسلح افواج کی پریڈ ہوگی اس کی دو کلومیٹر کی حدود کے اندر واقع کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے دینی مدارس 18 مارچ سے لے کر 24 مارچ تک بند رہیں گے۔

اس عرصے کے دوران جن علاقوں کے مدارس کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں ان میں سیکٹر جی سکس، جی سیون، آئی ایٹ، آئی نائن، ایچ ایٹ اور ایچ نائن کے علاوہ مری روڈ اور مارگلہ ٹاون واقع ہیں۔

ان علاقوں میں قائم مدارس، امام بارگاہوں اور مزاروں کی تعداد 40 سے زائد ہے جنھیں اس عرصے کے دوران بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق پولیس کے خفیہ ادارے سپیشل برانچ کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں واقع مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے جن میں اکثریت کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق ان مدارس کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ان اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو اس عرصے کے دوران کسی دوسری جگہ منتقل کریں یا انھیں گھر بھیج دیا جائے۔

سکیورٹی فوسز کے اہلکار روزانہ کی بنیاد پر ان علاقوں میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن میں واقع افغان بستی کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں گذشتہ آٹھ سال کے دوران سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مسلح افواج کی پریڈ نہیں ہوسکی تھی۔ تاہم اس مرتبہ حکومت نے یوم پاکستان کے موقع پر اس خصوصی پریڈ کو منعقد کروانے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان ٹیلی کمینوکیشن اتھارٹی نے 45 لاکھ ایسی موبائل سموں کو بلاک کردیا ہے جن کے بارے میں یہ معلومات نہیں تھیں کہ ان سموں کو کن افراد کے ناموں پر رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں موبائل سموں کی بندش سے شدت پسندی کے واقعات میں کسی حد تک کمی ہونے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں