’کراچی میں امن کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption وزیر اعظم کو قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور ملک کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے نتائج کو سراہا ہے۔

نواز شریف اور راحیل شریف پیر کی صبح الگ الگ کراچی پہنچے ہیں، جہاں انھوں نے شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے مستقبل اور قومی ایکشن پلان کے جائزے کے لیے سندھ کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے مشاورت کی ہے۔

دورۂ کراچی کے دوران وزیرِ اعظم اور آرمی چیف نے کور ہیڈکوارٹر میں ملاقات بھی کی ہے جس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نبیل مختار نے دونوں کو شہر کی صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں جاری آپریشن کے دوران رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ادھر وزیرِ اعظم نے بھی سندھ میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشن کو سراہا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل نے کہا کہ فوج کراچی میں امن کی بحالی کے لیے جاری آپریشن میں مدد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

جنرل راحیل کو ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے ٹارگٹڈ آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی تھی جس کے بعد انھوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کے دوران 2014 کے دورن رینجرز اور پولیس نے کم سے کم 950 ملزمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس کے علاوہ وزیر اعظم کو قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور آپریشن ضرب عضب کے تناظر میں ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا

گیا ہے۔

بعدازاں ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے کئی نکات پر ابھی عملدرآمد ہونا باقی ہے اور عوام کو اس منصوبے سے کئی امیدیں وابستہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں جاری آپریشن کے دوران 2014 کے دورن کم سے کم 950 ملزمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کو انتہائی سنجیدہ اور اہم معاملہ قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ پہلے خدا اور پھر عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔

انھوں نے چیف سیکریٹری سندھ کو اس حوالے سے بریفنگ دینے کی ہدایت بھی کی۔

خیال رہے کہ ناجائز اسلحے کے ایک مقدمے کے ملزم رضوان قریشی نامی ایک ملزم کی تفتیشی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔

ملزم نے انکشاف کیا تھا کہ فیکٹری میں آتشزدگی ایک حادثہ نہیں تھا اور اس واقعے میں ایک گروہ ملوث تھا۔

جنرل راحیل نے کہا ہے کہ کراچی میں مجرموں کے خلاف آپریشن کسی نسلی، سیاسی اور مذہبی امتیاز اور فرقے کا خیال کیے بغیر شفاف طریقے سے ہونا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی نے پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہاں امن کا مطلب پاکستان کی خوشحالی ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے برعکس فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کمیٹی کے اجلاس میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ بغیر کسی امتیاز کے تمام مجرموں کے خلاف لسانی، سیاسی، مذہبی اور فرقہ وارنہ وابستگی سے بالاتر ہوکر کارروائی کرنا ہوگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز کے آپریشن کی وجہ سے کراچی میں پائیدار امن اور استحکام پیدا ہوا ہے اور سیاسی قوتوں کو مستقل امن کے لیے جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں میں بہتر تعاون کی ضرورت ہے اور پولیس کو غیر سیاسی فورس بنا کر سیاسی مداخلت بند کر دی جانی چاہیے۔

اسی بارے میں