کوہاٹ: افغان کیمپوں میں آپریشن، 100 سے زیادہ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر طالبان کے حملے کے دو ماہ بعد بھی صوبہ خیبر پختونخوا میں مشتبہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

تازہ ترین کارروائی ضلع کوہاٹ میں کی گئی ہے جہاں پولیس کا کہنا ہے کہ تین افغان بستیوں کے علاوہ دیگر علاقوں سے درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

کوہاٹ پولیس کے پی آر او نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن منگل کو بھی جاری ہے جبکہ پیر کو ابتدائی طور پر 252 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سرچ آپریشن افغان پناہ گزینوں کے گمگول کیمپوں کے علاوہ گلشن آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پیر کو پولیس نے اس کارروائی کے دوران 140 مقامی مشتبہ افراد کو پکڑا ہے جو مختلف جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی آپریشن کے دوران 112 افغان پناہ گزینوں کو بھی حراست میں لیا گیا تاہم ان میں سے99 کو پاکستان میں رہنے کے لیے قانونی دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ 13 کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر بھی یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو واپس اپنے وطن بھیجا جائے۔

پاکستان حکومت اب تک ان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کر سکی۔ ان پناہ گزینوں کو گذشتہ برس دسمبر تک پاکستان میں رہنے کے اجازت نامے دیے گئے تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے بھی ایسی اطلاعات ہیں کہ پولیٹکل انتظامیہ نے ان افغان پناہ گزینوں سے کہا ہے کہ وہ واپس اپنے وطن چلے جائیں جن کے پاس باقاعدہ دستاویزات نہیں ہیں۔

اس بارے میں مقامی سطح پر اعلانات کیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ ایسے افغان پناہ گزینوں کو مکانات کرائے پر نہ دیں جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں۔

اسی بارے میں