’خودکش حملے:’طریقہ کار میں تبدیلی، حکام کی مشکل‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان میں حالیہ برسوں میں خودکش دھماکوں کی ایک طویل فہرست ہے اور ایسے حملوں کو روکنے پر حکام اپنی مجبوریوں کا کئی بار اظہار بھی کر چکے ہیں۔

تاہم ایسے واقعات کے بعد تحقیقات کرنے والے حکام کو خودکش بمبار کے سر کی صورت میں ایک اہم ثبوت مل جاتا تھا اور اس ثبوت سے تحقیقات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی تھی۔

لیکن حالیہ خودکش حملوں میں تفتیشی حکام کو کافی مشکلات کا سامنا ہو رہا کیونکہ ان کو جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر نہیں ملتا۔

شدت پسندی کے واقعات کے بعد جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کی شرط پر بتایا کہ حالیہ واقعات میں خودکش دھماکے کے بعد سر نے ملنے کی وجہ یہ ہے کہ حملہ آوروں اور ان کے ہینڈلرز نے طریقہ کار تبدیل کر لیا ہے۔

’پہلے خودکش بمبار سیدھا کھڑے ہو کر اپنے آپ کو اڑاتے تھے لیکن اب خودکش حملہ آور رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھ چھاتی سے تھوڑا نیچے باندھ کر خود کو دھماکے سے اڑاتے ہیں۔‘

انھوں نے اس طریقے کے پیچھے سوچ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ’سیدھا کھڑے ہو کر دھماکے کرنے کی صورت میں بمبار کا سر عموماً تن سے جدا ہو جاتا تھا اور دوسرا اس کے بازوں یا ہاتھ بھی الگ ہو جاتے تھے۔ لیکن اس نئے طریقے کی وجہ سے ایک تو سر مکمل طور پر اڑ جاتا ہے اور دوسرا ہاتھوں کی انگلیاں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے انگلیوں کے نشان ملنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔‘

طریقہ کار کی تبدیلی کے باعث اس سے ہونے والے جانی نقصان میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں کہ جواب میں جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے والی ٹیم کے رکن نے کہا کہ خودکش جیکٹ میں آگے اور پیھچے دونوں جانب دھماکہ خیز مواد اور بال بیئرنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ’رکوع کی پوزیشن میں دھماکہ جب کیا جاتا ہے تو اس سے اگر سامنے کی جانب کم نقصان ہوتا ہے تو عقبی جانب زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کچھ عرصہ پہلے واہگہ سرحد پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی یہی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا۔

’اس میں رکوع کی حالت میں دھماکہ کیا گیا تھا اور جس میں 55 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں حملہ آور کے چند بال اور جِلد کا کچھ حصہ ہی مل پایا تھا۔‘

اہلکار نے مزید بتایا کہ لاہور میں منگل کو پولیس لائنز کے قریب ہونے والے دھماکے میں بھی خودکش حملہ آور نے رکوع پوزیشن ہی میں اپنے آپ کو اڑایا۔

’لیکن ابتدائی تفتیش سے معلوم چلا ہے کہ خودکش بمبار نے بظاہر جلدی میں دھماکہ کیا تھا کیونکہ اس کا ہدف اس وقت پولیس لائنز میں موجود ڈی آئی جی ہو سکتے تھے۔ جلد بازی کے باعث اس کے بالوں کی مکمل جلدِ جائے وقوعہ سے ملی ہے اور ایک ناقابل شناخت لاش بھی ملی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص خودکش بمبار کو ہدف تک پہنچانے آیا تھا۔‘

انھوں نے واہگہ کے برعکس پولیس لائنز کے قریب ہونے والے دھماکے میں جانی نقصان کم ہونے کے بارے میں بتایا کہ دونوں واقعات میں خودکش جیکٹ میں بال بیئرنگ کی تقریباً ایک جیسی مقدار یعنی تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار تک استعمال کی گئی تھی۔ ’لیکن بظاہر یہ دھماکہ جلدی میں کیا گیا جس کی وجہ سے نقصان کم ہوا۔‘

پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ سمیت شواہد سے متعلق جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں خودکش بمبار کا سر تحقیقات میں کتنا مددگار ہو سکتا ہے پر انھوں نے کہا کہ ’سر کی سرجری کرنے کے بعد اس کی تصاویر سکیورٹی اداروں، مخبروں اور تحقیقات میں مدد دینے والے دیگر ذرائع کو جاری کی جاتی ہے۔ اس کی مدد سے حملہ آور حملے سے پہلے کسی نہ کسی جگہ موجودگی کے بارے میں معلومات ملنے کے کافی امکانات ہوتے ہیں۔ لیکن موجودہ طریقۂ کار کی وجہ سے صرف حملہ آور کی نسل کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘

پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے زیادہ بہتر انتظامات پر زور دیا جاتا ہے لیکن اب موجودہ صورتحال نے اس ضمن میں پائی جانے والی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں