’پاکستانی کوششوں کے نتائج جلد سامنے آئیں گے‘

پشاور میں سکول پر حملے کے بعد پاکستان افغان حکام میں تعاون اور ملاقاتوں کاسلسلہ بڑھا ہے

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

پشاور میں سکول پر حملے کے بعد پاکستان افغان حکام میں تعاون اور ملاقاتوں کاسلسلہ بڑھا ہے

پاکستانی فوج کے سربراہ کے دورۂ کابل کے بعد افغانستان نے امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کے نتائج جلد سامنے آجائیں گے۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے منگل کو دورۂ کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے الگ الگ ملاقات کی۔

افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے ہمراہ موجود پاکستانی وفد نے افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی مدد فراہم کرنے کی دوبارہ یقین دہانی کروائی۔

’ پیغامات اور فراہم کی جانے والی پیش رفت مثبت تھی جس سے پاکستان کے عزم کا اظہار ہوتا ہے، ان کوششوں کے نتائج مستقبل قریب میں واضح تر ہو جائیں گے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاک افغان دوطرفہ تعلقات سے دونوں ممالک میں دیرپا قیام امن کو یقینی بنایا جائے گا۔

،تصویر کا کیپشن

کرزئی دور حکومت میں پاکستان اور افغانستان میں بداعتمادی کی فضا قائم رہی

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ افغان صدر اشرف غنی اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دنوں ممالک کے تعلقات میں ہونے والی بہتری پر تعریف کرتے ہوئے اپنی اپنی سرحدوں میں کارروائیوں کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آرمی چیف اور افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرقہ تعلقات سمیت سرحدوں پر کنٹرول اور دہشت گردوں کے خالف جاری کارروائیوں میں ٹھوس پیش رفت اور خفیہ معلومت کے تبادلے پر بات چیت کی۔

ادھر افغان صدارتی دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل راحیل نے افغانستان میں قیام امن میں مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور یہ کہ پاکستان کی ان کوششوں کے نتائج مستقبل قریب میں مزید واضح ہوجائیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 16 دسمبرکو پشاور کے سکول میں دہشت گردوں کے حملے کے اگلے ہی روز وزیراعظم کی ہدایت پر افغانستان کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں اور پاکستانی قیادیت فضل اللہ کی حوالگی سمیت دہشت گردوں کی پاکستانی سرحدوں میں حملے روکنے کے لیے افغان حکومت سے تعاون کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔