سندھ میں ریچھ کی لڑائی پر پابندی عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریچھ اور کتے کی لڑائی میں ریچھ کو رسی سے باندھ کر اس پر کتے چھوڑے جاتے ہیں، یہ کتے ریچھ کی ناک اور منہ پر حملہ کرتے ہیں جس سے وہ شدید زخمی ہو جاتا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ریچھ کی لڑائی اور اس کے سرکس میں استعمال پر پابندی عائدکر دی گئی ہے۔

اس پابندی کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

صوبائی محکمۂ جنگلی حیات نے سندھ بیئر بیٹگ کنٹرول کمپنسیشن رولز کے تحت بھورے، سیاہ اور ایشیائی نسل کے ریچھ کا شمار ان جانوروں میں کر دیا ہے جن کی بقا خطرے میں ہے جس کے بعد اب ان کا تفریحی اور بھیک مانگنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکے گا۔

اس قانون کے تحت تعلیمی اور تحقیقاتی ادارے پیشگی اجازت لے کر ریچھ رکھے سکتے ہیں۔

ریچھ رکھنے یا پالنے کو غیر قانونی سمجھا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی پر سندھ جنگلی حیات کے قانون کے مطابق مقدمہ درج کر کے ریچھ کو ضبط کیا جا سکے گا اور مالک پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا۔

محکمۂ جنگلی حیات کے مطابق ضبط کیے جانے والے ریچھ کو بحالی سینٹر میں رکھا جائے گا جبکہ اس کی خوراک کا انتظام وہ فرد یا ادارہ کرنے کا پابند ہوگا جس کی تحویل میں یہ ریچھ ہو گا۔

خیال رہے کہ دیہی علاقوں میں میلوں کے موقعے پر ایک دہائی قبل تک ریچھ اور کتے کی لڑائیں عام تھیں لیکن بعد میں اس میں کمی ہوتی گئی۔

محکمۂ جنگلی حیات کے مطابق اب سال میں 10 سے 12 ایسے اجتماع ہوتے ہیں۔

ریچھ اور کتے کی لڑائی میں ریچھ کو رسی سے باندھ کر اس پر کتے چھوڑے جاتے ہیں، یہ کتے ریچھ کی ناک اور منہ پر حملہ کرتے ہیں جس سے وہ شدید زخمی ہو جاتا ہے، کبھی کبھی اس لڑائی میں کتے بھی مارے بھی جاتے ہیں۔

محکمۂ جنگلی حیات کی سیکریٹری نائلہ واجد خان کا کہنا ہے کہ اس قانون سے قبل ایسی لڑائیوں کا انعقاد کرنے والے ملزمان کو اگر پکڑ بھی لیتے تو ان پر ایف آئی آر درج نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ایسا کوئی قانون ہی موجود نہیں تھا لیکن اب ان کے پاس قانونی جواز اور اختیار موجود ہے۔

لڑائی کے علاوہ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں مداری بندر، بکرے اور کتے کے ساتھ ریچھ کا تماشہ بھی دکھاتے تھے جس میں بین بجا کر ریچھ کا ناچ دکھایا جاتا تھا لیکن یہ مناظر بھی اب نظر نہیں آتے اور سرکس میں بھی ریچھ کا استعمال نہیں ہوتا۔

محکمۂ جنگلی حیات کے قانون کے مطابق اگر کوئی رضاکارانہ طور پر ریچھ محکمے کے حوالے کرتا ہے تو اس پر جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کشمیر، شمالی علاقوں، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں ریچھ پایا جاتا ہے۔

ڈبیلو ڈبلیو ایف کی چیف کنزرویٹو عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریچھ کا شمار ان جانداروں میں ہوتا ہے جن کی نسل کو خطرہ لاحق ہے، ریچھ کی لڑائی کے لیے اس کے بچوں کو جنگل سے چرایا جاتا ہے جبکہ اس کی ماں کو گولی مار دی جاتی ہے ۔

سندھ میں ریچھ نہیں پایا جاتا ہے یہاں دوسرے صوبوں سے ریچھ لائے جاتے ہیں، قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی ایسا جانور جس کو تحفظ حاصل ہے وہ کسی دوسرے صوبے میں منتقل کیا جائے تو اس کے لیے اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے۔

برطانیہ کی تنظیم ورلڈ اینیمل پروٹیکشن اپنے مقامی شراکت دار بائیو ریسرچ سینٹر کے ساتھ پاکستان میں ریچھ اور کتے کی لڑائی کی روک تھام کے لیے سرگرم ہے، ان کے پاس ایک بحالی سینٹر بھی موجود ہے جس میں ان لڑائیوں سے ضبط یا رضاکارانہ طور پر دیے گئے 32 ریچھ موجود ہے۔

بائیو ریسرچ سینٹر کے سربراہ فخر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے سنہ 1994 سے اس مہم کا آغاز کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت پورے پاکستان میں 1200 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جن میں ریچھ اور کتے کی لڑائی کرائی گئی تھی اب چند سالوں سے ایسے 10 کے قریب پروگرامز کی اطلاعات ملی ہیں۔

فخر عباس کے مطابق پاکستان میں جپسی ریچھ جن کو گلیوں میں پھرایا یا لڑایا جاتا ہے ان کی تعداد 160 کے قریب ہے جبکہ جنگلی ریچھ جن میں کالے ریچھ کی تعداد 700 سے 800 اور بھورے ریچھ کی تعداد 200 کے قریب ہے۔

پاکستان میں بعض خانہ بدوش قبائل اور خاص طور پر قلندر قبیلہ ریچھ کو لڑانے اور نچانے سے وابستہ تھے، بائیو ریسرچ سینٹر فخر عباس ان کے ادارے کی یہ پیشکش ہے کہ جو بھی یہ کام چھوڑ کر کوئی دوسرا کام کرنا چاہیے تو وہ اس کی مدد کے لیے تیار ہیں گذشتہ سال 7 کے قریب ایسے لوگوں کو متبادل روز گار فراہم کیا گیا۔

اسی بارے میں