اسلام آباد کی امام بارگاہ پر حملے میں تین افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption حالیہ کچھ دنوں سے پاکستان میں شیعہ برادری اور امام بارگاہوں پر ہونے والے حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی کری روڈ پر واقع امام بارگاہ میں نماز کے دوران ہونے والے حملے میں ایک حملہ آور سمیت کم سے کم چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ امام بارہ گاہ پر حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔

دوسری جانب مظاہرین نے اسلام آباد کی ایکسپریس وے کو دونوں جانب سے بند کر کے توڑ پھوڑ کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ پولیس کے مطابق امام بارگاہ پر حملہ کرنے والے دو افراد تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں نے امام بار گار میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ان میں سے ایک نے فائرنگ کی اور دستی بم پھینکا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک حملہ آور اور دو افراد ہلاک ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک حملہ آور اپنے ہی ساتھی کے پھینکے ہوئے دستی بم اور فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا۔

ہلاک ہونے والے حملہ آور نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی اور اس کی لاش قابلِ شناخت ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے فوراً بعد امام بار گاہ میں موجود افراد نے دروازہ اندر سے بند کر لیا جس کی وجہ سے دوسرا حملہ آور اندر داخل نہیں ہوسکا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرا حملہ آور باہر سے ہی فرار ہو گیا۔

ادھر وزیرِاعظم نواز شریف اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی اداروں سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کی ہے۔

حملے کے وقت امام بارگاہ میں نماز جاری تھی۔ یاد رہے کہ اسی ’امام بار گاہ قصرِ سکینہ‘ پر اس سے پہلے دو حملے ہو چکے ہیں۔

ایک دن پہلے ہی منگل کو لاہور میں پولیس لائنز کے قریب خودکش بم حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حالیہ کچھ ہفتوں سے پاکستان میں شیعہ برادری اور امام بارگاہوں پر ہونے والے حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔ آخری بڑا حملہ شکار پور میں ہوا تھا جہاں 61 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں