’ مشکل فیصلے کرنے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیاسی حکومت اور فوج متحد ہو کر ملک کو ہر قسم کی مشکل سے نکالنا چاہتی ہے: نواز شریف

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے چاروں صوبوں پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے مطابق ملک کی بقا کے لیے سیاسی قیادت اور فوج ایک ساتھ کام کر رہی ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت قائم اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کو اتفاق رائے سے تشکیل دیا گیا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے جنرل راحیل شریف کے ہمراہ قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد کے لیے مختلف صوبوں کا دورہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی صوبے میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار بہتر اور کسی میں کم ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام صوبوں کو اس پر ایک ہی رفتار کے ساتھ قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان میں بعض چیزیں آسان اور بعض مشکل ہیں لیکن ہم نے مشکل فیصلے کرنے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی کرنا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے صوبوں کو جس قسم کے تعاون اور مدد کی ضرورت ہو وفاقی حکومت اور فوج وہ مدد فراہم کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجلاس کو شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری اور مختلف کاروائیوں میں مارے جانے والے شدت پسندوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا

وزیر اعظم نے کہا کہ پوری قوم نتیجہ چاہتی ہے اس لیے صوبوں کو چاہیے کہ وہ قومی ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

صوبائی حکام نے اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک 53 کیسوں کو فوجی عدالتوں میں بھیجا گیا ہے۔

اجلاس کو شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری اور مختلف کارروائیوں میں مارے جانے والے شدت پسندوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹینینٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کے علاوہ دیگر حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپیکس کیمٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد کور ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی حکومت اور فوج متحد ہو کر ملک کو ہر قسم کی مشکل سے نکالنا چاہتی ہے۔

ان کہنا تھا کہ ملک کی بقا کے لیے سیاسی قیادت اور فوج ایک ساتھ کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے اجلاس کے لیے جو انتظامات کیےگئے اس پر وہ جنرل راحیل شریف، کمانڈر سدرن کمانڈ جنر ل ناصر خان جنجوعہ اور ان کی ٹیم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف نے پہلی بار شرکت کی۔اجلاس کو بلوچستان میں ایکشن پلان پر عملد رآمد کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔

گذشتہ سال دسمبر میں پشاور کے سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفقہ طور پر قومی ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت آئین میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں